منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

اورنج لائن ٹرین کو جھٹکا،سپریم کورٹ نے واضح اعلان کردیا

datetime 3  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) سپریم کورٹ میں اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شیخ عظمت سعید نے اپنے ریمارکس میں کہاہے کہ حکومت ماس ٹرانزٹ منصوبہ تعمیر کرنا چاہتی ہے تو کرے منصوبے کی تعمیر سے تاریخی عمارات کو نقصان نہ پہنچے‘ دوران تعمیر چرچ کی عمارت گرانے کی اجازت نہیں دیں گے‘ ملک میں ہر طرف بداعتمادی کی فضا ہے‘ عدلیہ سمیت کسی ادارے پر اعتماد

نہیں کیا جاتا‘ ماضی کو محفوظ رکھنے والی قوموں کا مستقبل محفوظ ہوتا ہے’ جس کو ماس ٹرانزٹ پسند نہیں وہ گاؤں چلا جائے۔ پیر کو سپریم کورٹ میں اورنج لائن میٹرو منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کی۔ وکیل نیسپاک شاہد ماجد نے عدالت کو بتایا کہ اورنج لائن پراجیکٹ کا روٹ 2007 میں تجویز کیا گیا منصوبہ کی تعمیر سات کلومیٹر زیر زمین کی جائے گی جبکہ پچیس کلومیٹر تعمیر زمین سے اوپر کی جائے گی۔ ماحولیاتی اثرات سے متعلق عوامی عدالت بھی لگائی گئی۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ میری نظر میں جہاں ماس ٹرانزٹ نہ ہو وہ شہر نہیں جس کو ماس ٹرانزٹ پسند نہیں وہ گاؤں چلا جائے۔ بات دو سو فٹ کے اندر تعمیر کی بھی نہیں ہے ۔ وکیل شاہد ماجد نے کہا کہ کسی تاریخی عمارت کو نقصان نہیں پہنچے گا۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ مغلیہ دور کی تعمیرات آپ کی حکومت پنجاب جیسی نہیں۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ حکومت ماس ٹرانزٹ منصوبہ تعمیر کرنا چاہتی ہے تو کرے منصوبے کی تعمیر سے تاریخی عمارات کو نقصان نہ پہنچے۔ دوران تعمیر چرچ کی عمارت گرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ تعمیرات سے پرانی عمارتوں کے متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ شاہد حامد نے کہا کہ میٹرو ٹرین روٹ تبدیل کرنا ممکن نہیں۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ

شاہد حامد نے کہا کہ میٹرو ٹرین کا ٹریک سڑک کے درمیان سے گزرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کیا لازمی ہے چوبرجی کے اوپر سے ہی ٹرین گزرے۔ شاہد حامد نے کہا کہ سڑک درمیان ٹریک سے خوبصورت نظارے دیکھنے کو ملیں گے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ خوبصورت نظارے سڑک سے بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ماصی کو محفوظ رکھنے والی قومتوں کا مستقبل محفوظ ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…