منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

پانامہ کیس کافیصلہ ،نواز شریف کو کلین چٹ مل سکتی ہے سپریم کورٹ کے ججز نے فوج سے کیا درخواست کر دی؟تہلکہ خیز انکشاف

datetime 3  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پانامہ کیس فیصلہ 300صفحات پر مشتمل ، تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ ججزفیصلہ خود ٹائپ کر رہے ہیںجو کہ ففٹی ففٹی ہو گا، فوج سے درخواست کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کی عمارت اور ججز کو اپنی حفاظت میں لے لیں، سینئرتجزیہ کار کا نجی ٹی وی

پروگرام میں دھماکہ خیز انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار ظفر ہلالی نے دھماکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ پانامہ کیس کا فیصلہ 300صفحات پر مشتمل ہو گا ۔ پانامہ کیس فیصلے میں تاخیر اس وجہ سے ہو رہی ہے کہ فیصلہ ججز خود ٹائپ کر رہے ہیںکیونکہ وہ اچھے ٹائپسٹ نہیں اس لئے ایک ایک انگلی سے ٹائپنگ کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے ایک کال کے ذریعے اطلاع دی گئی ہے کہ فوج کو کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی عمارت کو اپنی حفاظت میں لے لیں یعنی ججز کو اپنی حفاظت میں لے لیں جس پر میرا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ اپریل فول ٹائپ خبر ہو کیونکہ اس سے پہلے بھی ایسی ہی ایک خبر آچکی ہے۔انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ایک نہایت قابل اعتماد صحافی اور ایک دوسرے ذرائع نے ایک جج کے حوالے سے دعویٰ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پانامہ کیس فیصلے سے پاکستان کے 50فیصد عوام کو مایوسی ہو گی، سینئر تجزیہ کار ظفر ہلالی کا اس بات پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پانامہ کیس کے فیصلے سے 50فیصد لوگ خوش ہونگے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…