منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

فیس بک پر جعلی اکاؤنٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی زندگی برباد کردی

datetime 28  مارچ‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی )فیس بک پر بننے والے جعلی اکاؤنٹ کے باعث لاہور کی رہائشی خاتون کی شادی شدہ زندگی برباد ہوگئی جب کہ خاتون نے معاملے کے حل کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔ خاتون نے لاہور کی سیشن عدالت میں ایک ایسے شخص کے خلاف درخواست دائر کی ہے جو کہ اس کے نام سے مبینہ طور پر فیس بک اکاؤنٹ چلا رہاہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ جب خاتون کے شوہر نے فیس بک پر اپنی بیوی کے نام سے

اکاؤنٹ دیکھا جس پر خاتون کی تصویر لگی ہوئی تھی تو اس کے شوہر نے نا صرف اس بات پر خاتون کو گھر سے نکال دیا بلکہ وہ علیحدگی کے لیے بھی غور کر رہاہے۔ خاتون کا کہناتھا کہ وہ کافی عرصہ سے سوشل میڈیا استعمال کر رہی ہے اور راجا خلیل نامی شخص نے میرے اصلی اکاؤنٹ سے میری تصویر حاصل کی اور ایک جعلی اکاؤنٹ بنا لیا، خاتون کا کہنا تھا کہ مجھے اس وقت پتا چلا جب اس نے میرے بھائی کو فیس بک پر دوستی کے لیے پیغام بھیجا جب کہ اس شخص نے کئی اور شخصیات کو بھی ایسا ہی پیغام بھیجا۔خاتون کا کہنا ہے کہ اس حرکت کے باعث اس کی شادی شدہ زندگی برباد ہوگئی لہذا ایف آئی اے کو مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی جائے اور ملزم کو گرفتار کیا جائے۔بلکہ وہ علیحدگی کے لیے بھی غور کر رہاہے۔ خاتون کا کہناتھا کہ وہ کافی عرصہ سے سوشل میڈیا استعمال کر رہی ہے اور راجا خلیل نامی شخص نے میرے اصلی اکاؤنٹ سے میری تصویر حاصل کی اور ایک جعلی اکاؤنٹ بنا لیا، خاتون کا کہنا تھا کہ مجھے اس وقت پتا چلا جب اس نے میرے بھائی کو فیس بک پر دوستی کے لیے پیغام بھیجا جب کہ اس شخص نے کئی اور شخصیات کو بھی ایسا ہی پیغام بھیجا۔خاتون کا کہنا ہے کہ اس حرکت کے باعث اس کی شادی شدہ زندگی برباد ہوگئی لہذا ایف آئی اے کو مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی جائے اور ملزم کو گرفتار کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…