جمعہ‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2026 

خیبر پختونخوا حکومت کے 24 مطالبات ،وفاقی حکومت نے بالآخربڑاقدم اٹھادیا

datetime 16  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)سینٹ نے پی آئی اے کی مجموعی کارکردگی بارے خصوصی کمیٹی کی دوسری عبوری رپورٹ اور خیبر پختونخوا حکومت کے 24 مطالبات کے حوالے سے خصوصی کمیٹی کی رپورٹ کی منظوری دیدی ۔ جمعرات کو اجلاس کے دور ان پی آئی اے کی مجموعی کارکردگی سے متعلق خصوصی کمیٹی کی دوسری عبوری رپورٹ کی منظوری دی گئی اس سلسلے میں سینیٹر مظفر حسین شاہ نے تحریک پیش کی کہ پی

آئی اے کی مجموعی کارکردگی سے متعلق خصوصی کمیٹی کی دوسری عبوری رپورٹ کو زیر غور لایا جائے اور منظور کیا جائے اس معاملے پر سید مظفر حسین شاہ ‘ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم‘ سینیٹر طاہر حسین مشہدی‘ سینیٹر رحمان ملک نے اظہار خیال کیا۔ اجلاس کے دور ان خیبر پختونخوا حکومت کے 24 مطالبات کے حوالے سے خصوصی کمیٹی کی رپورٹ کی منظوری دی گئی۔ خصوصی کمیٹی کے کنوینئر سید مظفر حسین شاہ نے اس سلسلے میں تحریک ایوان میں پیش کی جس پر سینیٹر اعظم سواتی‘ سینیٹر محسن عزیز اور طاہر حسین مشہدی نے بھی اظہار خیال کیا جس کے بعد ایوان نے کمیٹی کی رپورٹ کی منظوری دیدی۔اجلاس کے دور ان چیئرمین سینیٹ نے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے واشنگٹن پوسٹ میں شائع شدہ آرٹیکل کے حوالے سے تحریک التواء بحث کے لئے منظور کرلی سینیٹر لیفٹیننٹ (ر) عبدالقیوم اور محسن عزیز کی تحریک التواء کی منظوری کا معاملہ بھی ایجنڈے میں شامل تھا جس پر سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے اظہار خیال کیا اور اپنا موقف بیان کیا جس کے بعد چیئرمین نے تحریک التواء کو بحث کے لئے منظور کرلیا اور کہا کہ منگل کو اس پر دو گھنٹے بحث کرائی جائے گی۔اجلاس کے دور ان سینٹ میں معلومات تک رسائی بل 2016ء سے متعلق منتخب کمیٹی برائے معلومات کی رپورٹ پیش کردی گئی۔ کمیٹی کے چیئرمین

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے رپورٹ ایوان میں پیش کی۔اجلاس کے دور ان سینیٹر کامل علی آغا نے پرائیویٹ ممبر کے طور پر پیش کیا گیا رائٹ ٹو انفارمیشن 21 نومبر 2016ء بل ایوان بالا سے واپس لے لیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی طرف سے معلومات تک رسائی بل 2016ء کی رپورٹ پیش کئے جانے کے بعد سینیٹر کامل علی آغا نے نکتہ اعتراض پر بات چیت کرتے ہوئے پرائیویٹ ممبر کے طور پر رائٹ ٹو انفارمیشن 21 نومبر 2016ء کا بل واپس لینے کی درخواست کی جس کی چیئرمین سینٹ نے ایوان سے منظوری حاصل کی۔ یہ بل 21 نومبر 2016ء کو سینیٹر کامل علی آغا نے پیش کیا تھا۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…