پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا حکومت نے ریکارڈ توڑ دیئے،18 فروری سے قبل کیا ہونیوالا ہے؟دھماکہ خیز اعلان

datetime 14  مارچ‬‮  2017 |

پشاور(آئی این پی )وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ 18 فروری سے قبل چار ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں لے آئیں گے۔ منڈا ڈیم کی منظوری ہوچکی ہے جو 90 فیصد تک وادی پشاورکو سیلاب سے محفوظ بنا دے گا۔ انہوں نے بھاشا۔ داسو ڈیمز کیلئے زمین کا حصول اور پیہور پراجیکٹ کو چلانے کیلئے طریق کار وضع کرنے سمیت صوبہ بھر میں خوڑ کیلئے یکساں قاعدہ قانون لاگو کرنے کی ہدایت کی۔ وہ وزیراعلیٰ

ہائوس پشاور میں چیئرمین واپڈا کے ساتھ ایک اہم اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، صوبائی محکموں توانائی اور ایریگیشن کے انتظامی سیکرٹریوں، کمشنر ہزارہ، ڈپٹی کمشنر اپر دیر اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں بھاشا۔ داسو ڈیمز پر غور وخوض کیا گیا۔جبکہ پیہور پراجیکٹ واپڈا نے یا صوبائی حکومت نے چلانے ہیں پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ اس سلسلے میں ابھی سے ذہن بنالیں اور قابل عمل طریق کار وضع کریں۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبے میں پن بجلی کے متعدد منصوبے شروع ہیں جن کی تکمیل سے مزید چار ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں آجائے گی۔ چیئرمین واپڈا نے کہا کہ جو بجلی سسٹم میں شامل ہوتی جائے اسکے کلیمز/واجبات میں شامل کرتے جائیں تا کہ بعد میں مسائل پیدا نہ ہوں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ داسو ڈیم کیلئے سیگلو،زال اور کس میں زمین کا حصول تصفیہ طلب ہے جبکہ ڈیمز کی catchmentاور تعمیراتی کام کے لئے 969 ایکڑ اراضی موجود ہے۔ وزیراعلیٰ نے مذکورہ اراضی کے حصول کے مسئلے کا معقول حل نکالنے کی ہدایت کی تا کہ متعلقہ لوگوں کو مراعات کی فراہمی میں بھی مسئلہ نہ بنے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبوں سے متاثرہ علاقوں کے لوگوں کی شفٹنگ کا بھی بہترین طریقہ کار ہونا چاہئے۔ واپڈا اور صوبائی ادارے آپس میں رابطہ اور تعاون یقینی بنائیں تا کہ مذاکرات

کے ذریعے مسائل کا حل نکل سکے۔ اجلاس میں اتفاق ہوا کہ داسو اور بھاشا کے لئے زمین کے ریٹس اور دیگر مسائل کے حل کیلئے مکمل پیکیج ہونا چاہئے۔ وزیراعلیٰ نے چترال میں ایف ڈبلیو کی معاونت سے بجلی کے منصوبوں سے پیدا ہونے والی نئی بجلی کے پراجیکٹس کیلئے ابھی سے کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ان پراجیکٹس کے تناظر میں وہاں بجلی کی ترسیل اور سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے جس سے چیئرمین واپڈا نے اتفاق کیا اور اس سلسلے میں قابل عمل طریقہ کار نکالنے کا عندیہ دیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی پیک کے تناظر میں چشمہ لفٹ کینال سکیم بھی منظور ہوچکی ہے۔ اسکے علاوہ چین نے رشکئی میں چالیس ہزار کنال اراضی پر صنعتی بستی کی ترقی اور چین سے صنعتوں کی ریلوکیشن میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ جبکہ منڈا ڈیم سمیت دیگر پانی کے ذخائر تعمیر کرنے سے وادی پشاور میں پینے کے پانی کی قلت پر قابو پایا جا سکے گا۔ وزیراعلیٰ نے دریائے سوات اور دریائے دیر پر بیراجز پلان کرنے کی ہدایت کی تا کہ سوات، دیر اور پورے وادی پشاور کو سیلاب کی ممکنہ تباہ کاریوں سے بچایا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…