پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

انٹرپول سے گرفتاری کیلئے پاکستانی درخواست ،براہمدغ بگٹی کا ردعمل سامنے آگیا

datetime 1  مارچ‬‮  2017 |

جنیوا(آئی این پی)کالعدم بلوچ ریپبلکن پارٹی کے سربراہ براہمدغ بگٹی نے کہا ہے کہ انٹرپول سے میری گرفتاری کیلئے درخواست پر پاکستان کو کچھ حاصل نہیں ہوگا،پاکستانی حکومت کی جانب سے یہ معمول کے اقدام ہیں،میرے خلاف پہلے بھی نوٹس جاری کرنے کے بعد واپس لیے گئے ،میں ایک محفوظ ملک میں ہوں لیکن صرف ایک مسئلہ ہے کہ میں سیاسی سرگرمیوں کو انجام دینے کیلئے سفر کرنے کے قابل نہیں ہوں

۔سوئس ویب سائٹ ’’سوئس انفو ‘‘ سے گفتگو کے دوران پاکستانی وزارت داخلہ جانب سے اپنے خلاف ریڈوارنٹ جاری ہونے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے براہمداغ بگٹی نے کہا کہ پاکستان کو انٹرپول سے میری گرفتاری کیلئے درخواست پر کچھ حاصل نہیں ہوگا، یہ پاکستان کی حکومت کی جانب سے معمول کے اقدام ہیں انھوں نے یہ نوٹس جاری کیے پھر ان کو واپس لینے کے بعد دوبارہ جاری کردیا۔ جب میں افغانستان میں یورپ جانے کیلئے موجود تھا اس وقت پاکستان نے میرے خلاف اسطرح کا نوٹس جاری کیا تھا جسے بعد میں واپس لے لیا گیا۔براہمداغ نے کہاکہ میں ایک محفوظ ملک میں ہوں لیکن صرف ایک مسئلہ ہے کہ میں ایک محفوظ ملک میں ہوں لیکن صرف ایک مسئلہ ہے کہ میں سیاسی سرگرمیوں کو انجام دینے کیلئے سفر کرنے کے قابل نہیں ہوں۔براہمدغ نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم نہیں کہ بھارت ہمیں استعمال کرتا ہے یا نہیں لیکن کم از کم ہمیں زیادہ توجہ مل رہی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے براہمدغ بگٹی کے ریڈوارنٹ جاری کیے گئے تھے۔براہمدغ بگٹی پردہشت گردی، قتل وغارت کے مقدمات درج ہیں، عدالتیں براہمدغ بگٹی کو اشتہاری قرار دے چکی ہیں۔وزارت داخلہ نے بی آر اے کے شیرمحمد عرف شیرا کے ریڈوارنٹس بھی جاری کیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…