بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

نیشنل ایکشن پلان اورحافظ سعید ، چودھری شجاعت حسین کا حیرت انگیز انکشاف

datetime 12  فروری‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی )پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی جانب سے حافظ سعید کی نظربندی کو نیشنل ایکشن پلان کا حصہ قرار دینے پر کہا ہے کہ جب نیشنل ایکشن پلان بنا تو میں اور مشاہد حسین سید نے اس میں اپنی پارٹی کی نمائندگی کی تھی جس میں کسی جگہ پر بھی حافظ سعید کا ذکر نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد ضرور رنگ لائے گی۔

وہ یہاں اپنی رہائش گاہ پر کشمیری حریت رہنما مشعال یاسین ملک سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ سرتاج عزیز کہتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات پیچیدہ ہیں جبکہ ہم تو کئی سال سے کہہ رہے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ گفتگو کیے بغیر خطے میں امن نہیں ہو سکتا لیکن اس کیلئے پاکستان کی موجودہ حکومت نے کوئی قدم نہیں اٹھایا، پچھلی حکومتوں کے دوران تعلقات میں کشیدگی تھی لیکن اس کے باوجود باہمی دوروں اور وفود کے تبادلہ کا سلسلہ جاری رہتا تھا لیکن اب یہ کام بالکل ٹھپ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت افسوس کی بات یہ ہے کہ خطے کے تین بڑے ممالک ایران، بھارت اور افغانستان ہیں جن میں سے دو کے ساتھ تو حکومت تسلیم کرتی ہے کہ تعلقات خراب ہیں لیکن تیسرے کے ساتھ بھی تعلقات کو ہم اتنا بہتر نہیں کہہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان اور ایران سے تعلقات بہتر بنانے چاہئیں۔ چودھری شجاعت حسین نے کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال یاسین ملک سے ملاقات کے حوالے سے کہا کہ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ظلم و ستم کا نوٹس لینا چاہئے، پاکستان کے عوام کشمیریوں کے ساتھ ہیں، مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دیئے بغیر برصغیر ہند کی تقسیم کا ایجنڈا نامکمل ہے۔ مشعال ملک نے پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھانے اور کشمیریوں کی جدوجہد کی بھرپور حمایت کرنے پر چودھری شجاعت حسین سے دلی طور پر اظہار تشکر کیا۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…