پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

آئندہ 10 سالوں کے بعد پاکستان کے پاس پانی نہیں ہو گا ،اہم عالمی ادارے کی رپورٹ نے مودی کی آبی جارحیت کوبے نقاب کردیا

datetime 9  فروری‬‮  2017 |

لاہور(این این آئی )پاکستان تحریک انصاف انصاف پروفیشنلزفورم کی چیئرپرسن ڈاکٹر یاسمین راشدنے کہا ہے کہ آئندہ چندسالوں میں ملک وقوم کو پانی کے شدید بحران کا سامنا کر نا ہو گا ، اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق آئندہ 10 سالوں کے بعد پاکستان کے پاس پانی نہیں ہو گا ،حکومت کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایمر جنسی طور پر پانی کے حوالے سے پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے ،

انہوں نے کہاکہ پانی کی قلت ملک کااہم ترین مسئلہ بن چکا ہے،اگر ہم نے پانی کے اس اہم مسئلہ پر ابھی بھی قابو نہ پایا تو ہمارا حال بھی ایتھوپیا جیسا ہو گا ۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ مودی پاکستان کا پانی روکنے کی کئی بار دھمکیاں دے چکاہے ،بھارت نے دریائے سندھ پر غیر قانو نی طور پر ڈیم تعمیر کر لیے ہیں جس کی ذریعے وہ جب چا ہے پاکستان کو بنجر کر سکتا ہے،ڈیم تعمیر کر نا بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے،بھارت پاکستان کو خشک ساحلی کے ذریعے تباہ کر نا چا ہتا ہے ا ور ہمارے حکمرانوں نے بھارتی آبی جارحیت پرمجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔پاکستانی حکومت تیاری نہ ہو نے کی وجہ سے عالمی سطح پر سندھ طاس معاہدے کا کیس بھی ہار چکی ہے جو کہ مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے اہم مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کر نے کی ضرورت ہے،ملک کے سابقہ اور موجودہ حکمرانوں نے پانی کو ذخیرہ کر نے کے لیے کو ئی انتظام نہیں کیا ہے ، ملک بھر میں پانی کی زمینی سطح خطر ناک حد تک نیچے جا چکی ہے ،پانی کی قلت کی وجہ سے زراعت پر گہرا اثر پڑے گا جس سے قط کا خطر ہ ہے ،پانی کی کمی کی وجہ سے نیلم ہائیڈو پاور پروجیکٹ میں بجلی کی پیداور میں 16فیصدکمی ہو گی اور پانی کے ساتھ ساتھ بجلی کا بھی شدیدبحران ہو سکتا ہے ۔انہوں نے مزید کہاکہ پانی زند گی کی علامت ہے اس کے بغیر زندگی ناممکن ہے ، پانی کو ضیاع سے بچانے کے لیے ٹھو س منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…