اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

لندن کے بعدوزیراعظم کی پاکستان میں رہائش گاہوں پر بھی تنازعہ کھڑا ہوگیا،حیرت انگیزانکشافات

datetime 1  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی )تحریک انصاف کی سینئر رہنما عندلیب عباس نے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری کو خط لکھ کر جاتی امرا میں وزیر اعظم کی ذاتی رہائشگاہ میں کیئے جانے والے اخراجات کی تفصیلات مانگ لیں۔انہوں نے کہاہے کہ بحیثیت پاکستانی شہری اور رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013کے تحت معلومات کا حصول ان کا بنیادی حق ہے۔بدھ کوعندلیب عباس کی جانب سے لکھے جانے والے خط کے متن کے مطابق چونکہ پنجاب انفارمیشن کمیشن نے جاتی امرا کو وزیر اعظم کا کیمپ آفس قرار دیا ہے

۔اس لیئے اس کیمپ آفس کے اخراجات کی مصدقہ تفصیلات مہیا کی جائیں۔ عندلیب عباس نے خط میں سوال اٹھایا ہے کہ وزیر اعظم کی ذاتی رہائشگاہ جاتی امرا ،جہاں ان کے اہلخانہ مقیم ہیں کو کیمپ آفس کا درجہ آخر کیوں دیا گیا ہے جبکہ وزیر اعظم کی یہ ذاتی رہائش گاہ جسے کیمپ آفس قرار دیا گیا ہے دارلحکومت سے سینکڑوں میل دور ہے۔ انہوں نے خط میں یہ بھی پوچھا ہے کہ وزیر اعظم کی کل کتنی رہائشگاہوں کو کیمپ آفس کا درجہ دیا گیا ہے ان کی تفصیلات پتے سمیت بتائی جائیں۔ اور یہ بھی بتایا جائے کہ پنجاب حکومت نے کس مد میں جاتی امرا کی فصیل اور سیکیورٹی لائیٹس کے لیئے 364.4کروڑ کی ادائیگی کی جبکہ وہ وزیر اعظم کا کیمپ آفس ہے وزیر اعلی پنجاب کانہیں۔ عندلیب عباس نے خط میں وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری سے پوچھا کہ کیا وزیر اعظم اپنا دور حکومت ختم ہونے پر 364.4کروڑ کی یہ قومی دولت قومی خزانے میں واپس جمع کروائیں گے؟ بتایا جائے کہ شریف خاندان کی حفاظت کے لیئے 2700پولیس افسر کیوں تعینات ہیں ان کے روزانہ کے اخراجات کون ادا کرتا ہے۔ سرکاری ریکارڈ کی مصدقہ کاپی مہیا کی جائے۔ان نے خط میں وزیر اعظم کی رہائشگا جاتی امرا کے یوٹیلیٹی بلز اور دیگرا اخراجات کے دستاویزی مانگتے ہوئے پوچھا کہ یہ اخراجات کون ادا کرتا ہے؟ وفاقی یا پنجاب حکومت یا وزیر اعظم اور ان کا خاندان؟

عندلیب عباس کا کہنا تھا کہ پہلے ہی پنجاب میں شریف خاندان کی چار رہائش گاہیں ٹیکس پیئرز کے پیسے پر چل رہی ہیں۔جاتی امرا کے اخراجات عوام کے پیسے سے پورا کرنا اخلاق اور قانون کی دھجیا ں اڑانے کے مترادف ہے۔رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013کے تحت وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری 14دن کے اندر عندلیب عباس کے اس خط کا جواب دینے کے پابند ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…