ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

’’پاکستانی بھی کسی سے کم نہیں ‘‘ پاکستانی لڑکے نے ایسا کیا کام کر ڈالا کہ امریکی سرمایہ کار وں نے اسے 62لاکھ ڈالر رقم کی پیشکش کی جو اس نے ٹھکرا دی

datetime 29  جنوری‬‮  2017 |

لندن(آئی این پی )برطانیہ میں مقیم ایک پاکستانی نژاد 16 سالہ طالب علم نے کم عمری کے باوجود اپنی ذہانت اور محنت سے ایک ایسا منصوبہ تیار کیا جس نے اسے کروڑ پتی بنا دیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاکستانی نژاد محمد علی کی شہرت کو چار چاند لگانے والی اس کی وہ ویب سائیٹ ہے جس کی مقبولیت نے اسے شہرت کے ساتھ ناقابل یقین دولت کا بھی مالک بنا دیا۔

اگرچہ اس نے امریکی سرمایہ کاروں کے ایک گروپ کی جانب سے ویب سائیٹ کے بدلے میں 62 لاکھ ڈالر کے مساوی رقم کی پیش کش ٹھکرا دی۔رپورٹ کے مطابق محمد نے کچھ عرصہ قبل اپنے بیڈ روم میں ایک ایسی ویب سائیٹ کو ڈیزائن کرنے کے بارے میں سوچا۔ اس نے اپنی ویب سائیٹ کے ذریعے لوگوں کو پیسے خرچ کرنے کے بجائے انہیں بچانے کا آئیڈیا دیا اور یہ آئیڈیا ہزاروں افراد کو پسند آیا جس کے نتیجے میں اس کی تیار کردہ ویب سائیٹ تیزی کے ساتھ مقبولیت کی بلندیوں کو چھوتی چلی گئی۔ویب سائیٹ کی غیرمعمولی مقبولیت کے بعد امریکا کے سرمایہ کاروں نے محمد علی کو اس کی ویب سائیٹ کے بدلے میں 62 لاکھ امریکی ڈالرادا کرنے کی پیش کش کی۔ ان کی جانب سے یہ پیش کش بھی کی گئی محمد علی ویب سائیٹ ان کے حوالے کرنے کے بعد بھی اس کے ساتھ وابستہ رہے مگر اس نے امریکی دولت مندوں کی طرف سے پیش کش ٹھکرادی۔

جب علی کی طرف سے ویب سائیٹ کے بدلے بھاری رقم کی آفر ٹھکرا دی گئی تو انہوں نے اسے کہا کہ وہ مستقبل میں اسے مزید خطیر رقم فراہم کریں گے۔برطانوی اخبارڈیلی میل کے مطابق پاکستانی نژاد لڑکے کا یہ پہلا کارنامہ نہیں بلکہ وہ 12 سال کی عمر میں ایک تجارتی کمپنی بھی بنا چکا ہے جس سے اس نے 40 ہزار آسٹریلوی پانڈ کمائے تھے۔

اس نے اس رقم سے ایک آن لائن گیم تیار کی جسے فروخت کرکے اس نے مزید ہزاروں ڈالر کمائے۔ اس کیبعد وہ اسمارٹ فون کیٹریڈ مارکیٹ اور سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق پروگرامنگ کی جانب متوجہ ہوا اور آخر کار اس نے ایک ویب سائیٹ لانچ کی جس میں لوگوں کو پیسے بچانے کے اصولوں سے آگاہ کرنا شروع کیا۔محمد علی کا کہنا ہے کہ

کم عمری میں اس نے کئی کامیاب کاروباری منصوبے شروع کیے ہیں مگر اس کا سفر یہاں پرہی ختم نہیں ہو رہا ہے۔ وہ ایک اور ویب سائیٹ کی تیاری کے بارے میں غورکرہا ہے جس میں آن لائن شاپنگ سینٹرز میں اشیا کی قیمتوں کا تقابل کرکے اس کی تفصیلات گاہکوں کو فراہم کی جائیں گی۔ اس کے اس پروجیکٹ میں ایک ساٹھ سالہ برطانوی کاروباری شخصیت بھی شریک ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…