پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

سلمان حیدر چالیس پینتالیس برس کے جوان پاکستانی ہیں‘ یہ فاطمہ جناح وویمن یونیورسٹی کے شعبہ

datetime 28  جنوری‬‮  2017 |

جینڈر سٹڈیز کے پروفیسر ہیں‘ یہ ادب‘ تھیٹر‘ اداکاری‘ ڈرامہ نگاری اور صحافت سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں‘ یہ نظمیں بھی لکھتے ہیں‘ ان کی ایک متنازعہ نظم ”میں بھی کافر تو بھی کافر“ سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہوئی‘ یہ 6 جنوری کی رات بنی گالہ میں اپنے دوستوں کے ساتھ تھے‘ یہ گھر جانے کےلئے نکلے اور غائب ہو گئے‘ اہلیہ نے دس بجے فون کیا ‘ سلمان حیدر نے فون نہ اٹھایا‘ اہلیہ کو بعد ازاں سلمان حیدر کے نمبر سے ایس ایم ایس موصول ہوا

”میری گاڑی کرال چوک میں کھڑی ہے‘ آپ گاڑی وہاں سے منگوا لیں“ گاڑی اگلے دن کورنگ ٹاﺅن سے ملی‘ خاندان نے تھانہ لوئی بھیر میں اغواءکا پرچہ درج کرا دیا۔سلمان حیدر ان پانچ مسنگ پرسنز میں شامل ہیں جنہیں 4 سے 7جنوری کے درمیان اغواءکیا گیا‘ عاصم سعید اور وقاض گورایا کو 4 جنوری کو لاہور سے اٹھایاگیا‘ عاصم سعید سنگا پور سے لاہور پہنچاتھا جبکہ وقاص گورایا ہالینڈ میں رہتا تھا‘ یہ دونوں چار جنوری کو لاہور سے غائب ہو گئے‘ احمد رضا نصیر اور ثمر عباس 7 جنوری کو اٹھا لئے گئے‘ رضا نصیر ننکانہ صاحب میں اپنی دکان پر بیٹھا تھا‘ یہ وہاں سے اغواءکر لیا گیا‘ ثمر عباس کراچی کا رہائشی تھا‘ یہ کاروبار کے سلسلے میں اسلام آباد آیا اور غائب ہو گیا‘ یہ لوگ اگر عام حالات میں غائب ہو تے تو شاید یہ بڑی خبر نہ بنتے لیکن یہ پانچوں حضرات ایک ہی کیٹگری سے تعلق رکھتے ہیں‘ یہ بلاگرز ہیں اور یہ سوشل میڈیا پر ایک ہی قسم کا مواد پھیلاتے تھے‘ سلمان حیدر مبینہ طور پر فیس بک کے دو متنازعہ پیجز کے ایڈمن تھے ‘ایک پیج پر طویل عرصے سے مذہب کا مذاق اڑایا جا رہا تھا ‘ مقدس ہستیوں کے بارے میں توہین آمیز فقرے بھی لکھے جاتے تھے جبکہ دوسرے پیج پر پاک فوج کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا جاتا تھا‘ عاصم سعید اور وقاص گورایا بھی فیس بک کا ایک ‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…