جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

میں نے کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا مجھ پر کسی نے ’’بزدلوں‘‘ کی طرح پیچھے سے ہاتھ مارا ؟تحریک انصاف کے رہنماکے بیان نے نیاپنڈوراباکس کھول دیا

datetime 26  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ حکومتی ارکان کے پاس دلائل ختم ہوں تو ہاتھ اٹھاتے ہیں حکمران بری طرح پھنس چکے دلدل میں ڈوب جائیں گے۔ ایسے ہتھکنڈوں سے وہ بچ نہیں سکتے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ ہمارا موقف یہ تھا کہ ہمیں بولنے کا موقع دیا جائے۔ شاہد خاقان نے آکر گالیاں دیں ۔

شاہد خاقان اور دیگر ارکان نے شاہ محمود کو ڈرایا دھمکایا جب شاہ محمود تقریر کر رہے تھے تو حکومتی ارکان لقمے دے رہے تھے۔ حکومتی ارکان نے جمعرات کو اسمبلی میں جو کچھ کیا اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں بیٹھنے والے بے حس ہو گئے ہیں حکومتی اراکین کے پاس دلائل ختم ہوں تو ہاتھ اٹھاتے ہیں ایسے ہتھکنڈوں سے وہ بچ نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا مجھ پر کسی نے بزدلوں کی طرح پیچھے سے ہاتھ مارا ۔ سپیکر سارا معاملہ دیکھ رہے تھے وہ کیوں خاموش رہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکمران بری طرح پھنسے ہیں وہ دلدل میں ڈوب جائیں گے۔ احتجاج ہامرا جمہوری حق ہے ۔ نعرے گزشتہ اجلاس ، خورشید شاہ کی تقریر کے دوران بھی لگے حکومتی ارکان میں وزیراعظم سے سوال کرنے کی جرات نہیں ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…