ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

20ارب روپے کا قرضہ 18ارب روپے کاصرف سود ،اہم صوبے نے حد ہی کردی،حیرت انگیزدعویٰ

datetime 20  جنوری‬‮  2017 |

کوئٹہ(این این آئی )جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء و سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے 20ارب روپے کا قرضہ ورلڈ بینک سے 18ارب روپے کے سود پر لیکر صوبے کو مقروض بنا دیا ہے سابق سیکرٹری فنانس نے معاہد ے پر اعتراضات لگا کر معاہدہ دستخط کرنے سے یکسر انکار کر دیا تھا لیکن خلاف قانون فنانس کے بجائے دوسرے محکمے نے اس معاہدے پر دستخط کردےئے گئے ہیں جس نے ہماری نسلوں کو ورلڈ بینک کے قرضے میں جکڑ دیا ہے ،

یہ بات انہوں نے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ مربوطی پانی کے وسائل کے 20ارب روپے کے منصوبے کیلئے ورلڈ بینک نے بلوچستان حکومت کو یہ رقم فراہم کرنے کیلئے 18ارب روپے کی سود کی رقم طلب کی تھی لیکن محکمہ خزنہ نے اتنے بڑے سودی رقم کے حصول سے انکار کرتے ہوئے اس کو صوبے کا مالی نقصان کروایا انہوں نے کہا کہ یہ انکار ہونے کے باوجود ذاتی خواہشات کی تکمیل کیلئے اس منصوبے پر نہ صرف دستخط کر دیے گئے بلکہ رقم بھی حاصل کی گئی ہیں جس نے سوالات کو جنم دے دیا ہے کہ اس غریب صوبے کیلئے اتنی مہنگے قرضے لینے کی کیا ضرورت تھی کہ جس کی مد میں صوبہ ایک طویل عرصے تک نہ صرف مقروض رہے گا بلکہ 20ارب روپے کے بدلے میں 38ارب روپے ادا کرنے ہونگے انہوں نے کہا کہ اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ صوبے میں قوم کے محبت کے دعویداروں کی حکومت ہے جبکہ قوم کو قرضوں تلے دھبا دیا گیا ہے جس کو ادا ئیگی صوبے کی عوام کی رقم سے ہو گی انہوں نے چیف سیکرٹری بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاہدے کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ فنانس کومنصوبہ ختم کرنے کا حکم دیں تاکہ صوبہ قرضوں کی بوجھ سے آزاد ہو ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…