بدھ‬‮ ، 28 جنوری‬‮ 2026 

طیبہ تشدد کیس ،ڈراپ سین سپریم کورٹ نے حکم جاری کر دیا

datetime 18  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی)سپریم کورٹ نے طیبہ تشدد از خود نوٹس کیس میں پولیس کو تفتیش اور بیانات ریکارڈ کرنے کی 10 دن کی مہلت دیتے ہوئے سماعت 25 جنوری تک ملتوی کردی۔ بدھ کو طیبہ تشدد از خود نوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے کی۔ متاثرہ بچی طیبہ کے والدین بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے کہ عدالت نے تحقیقات کے لئے دس دن کا وقت دیا تھا۔
پولیس حکام نے جواب دیا کہ ڈی این اے کی رپورٹ جمع کرانے میں مزید دو سے تین دن لگیں گے، ماہین بی بی کی ضمانت راضی نامے پر ہوئی جس پر ماہین کے وکیل نے جواب دیا کہ مقدمے میں قابل ضمانت دفعات تھیں۔
راضی نامے پر ضمانت ہوئی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ضمانت کیوں نہ منسوخ کردیں۔ اس راضی نامے کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔باپ نے بتایا کہ میں نے راضی نامہ نہیں کیا جس پر وکیل نے کہا کہ قابل ضمانت دفعات میں ضمانت ملنے کے بعد منسوخ نہیں ہوسکتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بچوں کو مارو اور پھر کہو قابل ضمانت دفعات ہیں۔ والدین کی شناخت کے بغیر جج کیسے بچی دے سکتا ہے۔
جسٹس عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ملازم رکھنے والے اور والدین کو کتنی سزا ہوسکتی ہے۔ طارق ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہملازم رکھنے والے کو دو سو روپے جرمانہ ہوسکتا ہے۔ قوانین کے مطابق والدین کو پچاس روپے جرمانہ ہوسکتا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں بہتر قوانین ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ا س معاملے کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ معاملہ پر عدالت کی مکمل معاونت کریں گے۔
بچوں کے حقوق کے حوالے سے عالمی معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔حکومت چاہتی ہے اس برائی سے نمٹا جائے۔ عدالت نے پولیس کو تفصیلی بیانات ریکارڈ کرنے کا حکم دیتے ہوئے دس روز میں تفتیش مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے از خود نوٹس کی سماعت 25جنوری تک ملتوی کردی۔

موضوعات:



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…