پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

طیبہ تشدد کیس ،ڈراپ سین سپریم کورٹ نے حکم جاری کر دیا

datetime 18  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی)سپریم کورٹ نے طیبہ تشدد از خود نوٹس کیس میں پولیس کو تفتیش اور بیانات ریکارڈ کرنے کی 10 دن کی مہلت دیتے ہوئے سماعت 25 جنوری تک ملتوی کردی۔ بدھ کو طیبہ تشدد از خود نوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے کی۔ متاثرہ بچی طیبہ کے والدین بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے کہ عدالت نے تحقیقات کے لئے دس دن کا وقت دیا تھا۔
پولیس حکام نے جواب دیا کہ ڈی این اے کی رپورٹ جمع کرانے میں مزید دو سے تین دن لگیں گے، ماہین بی بی کی ضمانت راضی نامے پر ہوئی جس پر ماہین کے وکیل نے جواب دیا کہ مقدمے میں قابل ضمانت دفعات تھیں۔
راضی نامے پر ضمانت ہوئی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ضمانت کیوں نہ منسوخ کردیں۔ اس راضی نامے کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔باپ نے بتایا کہ میں نے راضی نامہ نہیں کیا جس پر وکیل نے کہا کہ قابل ضمانت دفعات میں ضمانت ملنے کے بعد منسوخ نہیں ہوسکتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بچوں کو مارو اور پھر کہو قابل ضمانت دفعات ہیں۔ والدین کی شناخت کے بغیر جج کیسے بچی دے سکتا ہے۔
جسٹس عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ملازم رکھنے والے اور والدین کو کتنی سزا ہوسکتی ہے۔ طارق ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہملازم رکھنے والے کو دو سو روپے جرمانہ ہوسکتا ہے۔ قوانین کے مطابق والدین کو پچاس روپے جرمانہ ہوسکتا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں بہتر قوانین ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ا س معاملے کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ معاملہ پر عدالت کی مکمل معاونت کریں گے۔
بچوں کے حقوق کے حوالے سے عالمی معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔حکومت چاہتی ہے اس برائی سے نمٹا جائے۔ عدالت نے پولیس کو تفصیلی بیانات ریکارڈ کرنے کا حکم دیتے ہوئے دس روز میں تفتیش مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے از خود نوٹس کی سماعت 25جنوری تک ملتوی کردی۔



کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…