پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

جج کے گھر تشدد کا شکارطیبہ کی بازیابی،کہانی کچھ اور ہی نکلی،بچی کے مبینہ والدین بھی سامنے آگئے

datetime 8  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی)طیبہ تشدد کیس ، پولیس کی کارکردگی کے اہم نکات سامنے آگئے ، بچی کی برما ٹاؤن سے بازیابی ، اطلاعات پولیس نے میڈیا تک پہنچائی ، پولیس ذرائع کے مطابق میڈیا تک خبر پہنچا کر پولیس اپنا کریڈٹ لینا چاہ رہی ہے ، طیبہ بازیاب نہیں ہوئی بلکہ اسے قریبی عزیزوں نے پولیس کے حوالے کیا ہے ، پولیس ذرائع کے مطابق بچی کے ہمراہ اسکے پہلے والدین بھی ہیں ، بچی طیبہ کا پمز میں میڈیکل بورڈ ہوگا ، طیبہ کو 11جنوری کو سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا ۔اسلام آباد پولیس نے ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہونیوالی کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ کو اس کے والدین سمیت بازیاب کرالیا۔

طیبہ کو سپریم کورٹ اور میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کیا جائے گا ،آخرکارکم سن گھریلوملازمہ طیبہ پولیس کومل ہی گئی۔۔لیکن طیبہ کے نئے نئے رشتہ داروں کے سامنے آنے کاسلسلہ ابھی تک جاری ہے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ کی جانب سے ازخود نوٹس لینے پر اسلام آباد پولیس کے لئے طیبہ کی گمشدگی چیلنج بن گئی تھی۔پولیس ذرائع کے مطابق تشدد کی شکار طیبہ کو اس کے والدین سمیت اسلام آباد کے مضافاتی علاقے سے بازیاب کرایا گیا ہے طیبہ کے والدین کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ بچی کو حفاظتی تحویل میں لیتے ہوئے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے،پولیس طیبہ کو سپریم کورٹ میں پیش کرے گی جبکہ تشدد کی نئی میڈیکل رپورٹ کے لئے پمزکاچاررکنی میڈیکل بورڈبچی کامعائنہ کرے گا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ طیبہ کے زخم کافی حد تک بہتر ہیں اور اسے درکار طبی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں

دوسری جانب ڈی آئی جی کاشف عالم کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی نے طیبہ تشدد کیس کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی ہے جو عدالت عظمیٰ میں جمع کرائی جائے گی جبکہ بچی اور اس کے والدین کے بیانات ریکارڈ کرنے اور میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی روشنی میں حتمی رپورٹ تیار کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…