اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

جج کے گھر تشدد کا شکارطیبہ کی بازیابی،کہانی کچھ اور ہی نکلی،بچی کے مبینہ والدین بھی سامنے آگئے

datetime 8  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی)طیبہ تشدد کیس ، پولیس کی کارکردگی کے اہم نکات سامنے آگئے ، بچی کی برما ٹاؤن سے بازیابی ، اطلاعات پولیس نے میڈیا تک پہنچائی ، پولیس ذرائع کے مطابق میڈیا تک خبر پہنچا کر پولیس اپنا کریڈٹ لینا چاہ رہی ہے ، طیبہ بازیاب نہیں ہوئی بلکہ اسے قریبی عزیزوں نے پولیس کے حوالے کیا ہے ، پولیس ذرائع کے مطابق بچی کے ہمراہ اسکے پہلے والدین بھی ہیں ، بچی طیبہ کا پمز میں میڈیکل بورڈ ہوگا ، طیبہ کو 11جنوری کو سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا ۔اسلام آباد پولیس نے ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہونیوالی کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ کو اس کے والدین سمیت بازیاب کرالیا۔

طیبہ کو سپریم کورٹ اور میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کیا جائے گا ،آخرکارکم سن گھریلوملازمہ طیبہ پولیس کومل ہی گئی۔۔لیکن طیبہ کے نئے نئے رشتہ داروں کے سامنے آنے کاسلسلہ ابھی تک جاری ہے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ کی جانب سے ازخود نوٹس لینے پر اسلام آباد پولیس کے لئے طیبہ کی گمشدگی چیلنج بن گئی تھی۔پولیس ذرائع کے مطابق تشدد کی شکار طیبہ کو اس کے والدین سمیت اسلام آباد کے مضافاتی علاقے سے بازیاب کرایا گیا ہے طیبہ کے والدین کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ بچی کو حفاظتی تحویل میں لیتے ہوئے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے،پولیس طیبہ کو سپریم کورٹ میں پیش کرے گی جبکہ تشدد کی نئی میڈیکل رپورٹ کے لئے پمزکاچاررکنی میڈیکل بورڈبچی کامعائنہ کرے گا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ طیبہ کے زخم کافی حد تک بہتر ہیں اور اسے درکار طبی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں

دوسری جانب ڈی آئی جی کاشف عالم کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی نے طیبہ تشدد کیس کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی ہے جو عدالت عظمیٰ میں جمع کرائی جائے گی جبکہ بچی اور اس کے والدین کے بیانات ریکارڈ کرنے اور میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی روشنی میں حتمی رپورٹ تیار کی جائے گی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…