جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

ڈاکٹر عبدالقدیر کو امریکہ کے حوالے کرتاتو میں زندہ نہ ہوتا ، بے نظیر کے دور میں رمزی کو مارا گیا، نوازشریف حکومت میں ایمل کانسی کو پھانسی دی گئی،سابق وزیراعظم کے تہلکہ خیزانکشافات

datetime 5  جنوری‬‮  2017 |

ڈیرہ اللہ یار( آن لائن)سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے کہا ہے کہ اگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو امریکہ کے حوالے کر دیتاتو آج میں زندہ نہ ہوتا ، بے نظیر بھٹو کے دور میں رمزی کو مارا گیا اور نوازشریف حکومت میں ایمل کانسی کو پھانسی دی گئی ، میں نے ایسا نہیں کیا ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو امریکہ کے حوالے کرنے اور نواب اکبر خان بگٹی کومارنے سے صاف انکار کردیا جس پر مجھے وزرات اعظمی سے مستعفی ہونا پڑا ، میں اپنے بزرگوں کا قتل نہیں کرسکتا ہوں ، نواب اکبر خان بگٹی میرے بزرگ اور بہت اچھے انسان تھے ۔

یہ بات انہوں نے صحبت پور پریس کلب کی نومنتخب کابینہ کو حلف دینے کے بعد منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ انہوں نے کہاکہ ملا قا ت اور موت پر کوئی بھر وسہ نہیں ہے ایسی طر ح پاکستان میں جنرل انتخابات پر بھی کوئی بھر وسہ نہیں ہے جو کسی بھی وقت الیکشن اعلان ہوسکتاہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان سے پہلے بلوچستان موجود تھا اور اب بھی بلوچستان موجود رہے گا ،خالی سڑکیں بنانے سے بلوچستان میں تر قی نہیں ہوتی ،بلوچ نوجوانوں کو جب تک پورا حق نہیں ملے گا اس وقت تک وہ کسی پراعتماد نہیں کریں گئے ،لیکن اب بہت ہو گیا اب بلوچستان سے جھوٹ نہیں چلے گا ،اب عملی طور پر بلوچوں کو ان کے حقوق دینے ہونگئے ۔انہوں نے کہاکہ میں ایم این اے ضرور ہوں ،مگر حکومت کا حصہ نہیں ہوں ویسے بھی حلقے کی عوام نے آزاد حیثیت سے منتخب کرکے اسمبلی میں پہنچایا ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت ہر حلقے کے ایم پی اے فنڈ زسے اضلاع کے اندر صحافیوں علا ج معالج کیلئے خصوصی فنڈز مختص کریں تاکہ بیمار ہونے والے غریب صحافیوں کا علاج معالجہ ہوسکے

۔انہوں نے کہا کہ اپنے دور حکومت میں بلا رنگ نسل پورے حلقے میں ایمانداری سے عوام کے بنیادی ضروریات کوپورا کرنے کی ہرممکن کوشش کی اور دیہی علاقوں تک گیس کی سپلائی اور پکی سڑکیں تعمیر کرائی ۔ تقریب سے ڈپٹی کمشنر آغا شیر زمان ، سابق تحصیل ناظم میر احمد نواز خان کھوسہ ،سینئر صحافی محمد ہاشم بلوچ ، لعل محمد شاہین ، جمل بلوچ ، راحب خان بلیدی ،رکن ضلع کونسل غلام یاسین کھوسہ سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…