بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی فنڈنگ کہاں سے آ رہی ہے؟ انکشاف نے سب پاکستانیوں کو حیران کر دیا

datetime 4  جنوری‬‮  2017 |

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی سیاستدانوں کاوطیرہ ہے کہ پاکستان کا غریب چہرہ دکھا کر بیرون ممالک سے امداد وصول کی جائے اور ملنی والی امداد سے خرد برد کی جائے۔ بینظیر انکم سپورٹ فنڈ کے نام سے آپ ضرور واقف ہوں گے۔ ملک بھر میں لاکھوں غریب خاندانوں کی مالی مدد کے لئے شروع کئے گئے اس پروگرام کے تحت ہر سال اربوں روپے تقسیم کئے جاتے ہیں،

یا یوں کہئیے کہ کم از کم اربوں روپے کے عطیات باہر سے وصول ضرور کئے جاتے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ اس پروگرام کے لئے سالانہ کروڑوں پاؤنڈ برطانیہ سے بھی آ رہے ہیں، اور یہ جان کر افسوس بھی ہو گا کہ اس بھاری رقم میں مبینہ طور پر وسیع پیمانے پر خردبرد کی جا رہی ہے,رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کو فراہم کی جانے والی امداد 2005ء4 میں 53 ملین پاؤنڈ تھی جو 2011ء سے 2015ء کے درمیان سالانہ اوسطاً 219 ملین پاؤنڈ تک پہنچ چکی ہے، جس میں سے ایک ایسی سکیم کے لئے 30 کروڑپاؤنڈ (تقریباً 45ارب پاکستانی روپے) وقف کئے گئے ہیں کہ جس کے بارے میں کرپشن کے الزامات کی بھرمار ہے۔ برطانوی حکام کو بتایا گیا ہے کہ اس سکیم کے تحت دو لاکھ 35 ہزار خاندانوں کو مدد فراہم کی جارہی ہے جو ہر تین مہینے بعد رقم نکلواتے ہیں۔ سکیم کے بارے میں سامنے آنے والے الزامات کے باوجود 2020ء تک اسے 4لاکھ 41ہزار خاندانوں تک پھیلانے کی بات کی جارہی ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو فراہم کی جانے والی مجموعی امداد ایک ارب پاؤنڈ (تقریباً ڈیڑھ کھرب پاکستانی روپے) سے تجاوز کرگئی ہے۔ فراڈ اور کرپشن کے الزامات سامنے آنے کے بعد برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے ہنگامہ برپا کردیا ہے اور امداد روکنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف پاکستان جیسے ممالک کو امداد بند کی جائے بلکہ برطانیہ کی جانب سے غیر ملکی امداد کے لئے وقف کیا گیا قومی آمدنی کا 0.7 فیصد کوٹہ ہی ختم کردیا جائے۔

برطانوی سیاستدان یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں امراء ٹیکس نہیں دیتے اور کرپشن کی بھرمار ہے، تو ہر سال کروڑوں پاؤنڈز کی امداد دینا دراصل کرپٹ حکام کی جیبیں گرم کرنے کے مترادف ہے۔ یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر اربوں روپے کی امداد غریب لوگوں تک نہیں پہنچ رہی تو اسے بند کیوں نہ کر دیا جائے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…