جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی فنڈنگ کہاں سے آ رہی ہے؟ انکشاف نے سب پاکستانیوں کو حیران کر دیا

datetime 4  جنوری‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی سیاستدانوں کاوطیرہ ہے کہ پاکستان کا غریب چہرہ دکھا کر بیرون ممالک سے امداد وصول کی جائے اور ملنی والی امداد سے خرد برد کی جائے۔ بینظیر انکم سپورٹ فنڈ کے نام سے آپ ضرور واقف ہوں گے۔ ملک بھر میں لاکھوں غریب خاندانوں کی مالی مدد کے لئے شروع کئے گئے اس پروگرام کے تحت ہر سال اربوں روپے تقسیم کئے جاتے ہیں،

یا یوں کہئیے کہ کم از کم اربوں روپے کے عطیات باہر سے وصول ضرور کئے جاتے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ اس پروگرام کے لئے سالانہ کروڑوں پاؤنڈ برطانیہ سے بھی آ رہے ہیں، اور یہ جان کر افسوس بھی ہو گا کہ اس بھاری رقم میں مبینہ طور پر وسیع پیمانے پر خردبرد کی جا رہی ہے,رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کو فراہم کی جانے والی امداد 2005ء4 میں 53 ملین پاؤنڈ تھی جو 2011ء سے 2015ء کے درمیان سالانہ اوسطاً 219 ملین پاؤنڈ تک پہنچ چکی ہے، جس میں سے ایک ایسی سکیم کے لئے 30 کروڑپاؤنڈ (تقریباً 45ارب پاکستانی روپے) وقف کئے گئے ہیں کہ جس کے بارے میں کرپشن کے الزامات کی بھرمار ہے۔ برطانوی حکام کو بتایا گیا ہے کہ اس سکیم کے تحت دو لاکھ 35 ہزار خاندانوں کو مدد فراہم کی جارہی ہے جو ہر تین مہینے بعد رقم نکلواتے ہیں۔ سکیم کے بارے میں سامنے آنے والے الزامات کے باوجود 2020ء تک اسے 4لاکھ 41ہزار خاندانوں تک پھیلانے کی بات کی جارہی ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو فراہم کی جانے والی مجموعی امداد ایک ارب پاؤنڈ (تقریباً ڈیڑھ کھرب پاکستانی روپے) سے تجاوز کرگئی ہے۔ فراڈ اور کرپشن کے الزامات سامنے آنے کے بعد برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے ہنگامہ برپا کردیا ہے اور امداد روکنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف پاکستان جیسے ممالک کو امداد بند کی جائے بلکہ برطانیہ کی جانب سے غیر ملکی امداد کے لئے وقف کیا گیا قومی آمدنی کا 0.7 فیصد کوٹہ ہی ختم کردیا جائے۔

برطانوی سیاستدان یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں امراء ٹیکس نہیں دیتے اور کرپشن کی بھرمار ہے، تو ہر سال کروڑوں پاؤنڈز کی امداد دینا دراصل کرپٹ حکام کی جیبیں گرم کرنے کے مترادف ہے۔ یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر اربوں روپے کی امداد غریب لوگوں تک نہیں پہنچ رہی تو اسے بند کیوں نہ کر دیا جائے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…