اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

کیاپاکستان کی طرح امریکہ ، برطانیہ، جرمنی ، فرانس، بھارت ، آسٹریلیا ، کینڈا اور اٹلی میں پلی بارگین ہوتی ہے؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 27  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(آئی این پی) کرپشن کیسوں میں ملزمان سے لوٹی ہوئی رقم واپس لینے کے لئے امریکہ ، برطانیہ، جرمنی ، فرانس، بھارت ، آسٹریلیا ، کینڈا اور اٹلی سمیت دنیا کے کئی ممالک میں پلی بارگین کے قوانین موجود ہیں جن کا اطلاق مختلف پہلوؤں اور کیسوں کی نوعیت کے مطابق کیا جاتا ہے تاہم کئی ممالک میں پلی بارگین کرنے والوں کو سزاؤں سمیت رقوم کی برآمدگی میں تخفیف کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک بے نامی کی جائیدادوں اور کسی تیسرے شخص کے نام اثاثے بنانے یا منتقل کرنے والوں کے خلاف کاروائی کے لئے قوانین موجود ہیں ۔ منگل کو ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک کرپشن کیسوں میں ملزمان سے پلی بارگین کرتے ہیں تاکہ طویل عدالتی ٹرائل اور ملزمان کی بریت کے خطرات سے بچا جا سکے ۔

رپورٹ کے مطابق پلی بارگین امریکی کرمنل جسٹس سسٹم کا اہم جزو ہے ،امریکہ میں جیوری ٹرائل کی بجائے کرپشن کے 90فیصد مقدمات پلی بارگین کے ذریعے یکسو کئے جاتے ہیں ۔آسٹریلیا میں پلی بارگین کرنے والوں کو جرم کی سزا میں 10سے25فیصد کی رعایت کی جاتی ہے ۔جرمنی میں پلی بارگین کا قانون موجود ہے تاہم پلی بارگین کے کیسوں کی تعداد بھی انتہائی کم ہے ۔بھارت میں 2005میں پلی بارگین متعارف کرائی گئی ۔ پلی بارگین کے قانون کا اطلاق کرپشن سمیت دیگر جرائم پر بھی ہوتا ہے ۔ اٹلی میں پلی بارگین کے ذریعے ملزمان کی سزاؤں میں ایک تہائی تک کمی ہوتی ہے ۔رپورٹ کے مطابق امریکہ ، برطانیہ،کینیڈا، سوئزلینڈ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں بے نامی کی جائیدادوں اور کسی تیسرے شخص کے نام اثاثے بنانے یا منتقل کرنے والوں کے خلاف کاروائی کے لئے قوانین موجود ہیں ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…