پشاور (آن لائن)ہزاروں صوبائی محکموں کے ملازمین نے سرکاری پاسپورٹ کے حصول کے لئے صوبائی حکومت کو درخواستیں دیدی ہے ۔ سرکاری ملازمین کے بیرون ممالک کے دوروں کے لئے سرکاری پاسپورٹ لازمی قراردیا گیا ہے تاہم محکمہ ایکسائز سمیت مختلف صوبائی محکموں کے 165سے زائد ملازمین نے صوبائی حکومت سے این او سی کے بغیر اور پرائیویٹ پاسپورٹ پر بیرون ممالک کے دورے کئے جس پرا ن ملازمین کی تفصیلات پاسپورٹ اینڈ امیگریشن حکام نے صوبائی حکومت کوارسال کی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ انہیں نوٹسز جاری کرتے ہو ئے ان کے خلاف بیانات قلمبند کئے گئے ۔ تاہم ان افسران نے تحقیقاتی کمیٹیوں سے معذرت کی کہ آئندہ وہ سرکاری پاسپورٹ پر بیرون ممالک کے دورہ کرینگے اورصوبائی حکومت سے این او سی بھی حاصل کرینگے ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ سرکاری پاسپورٹ کے حامل نہ ہونے والے سرکاری ملازمین کو ہدایات کی تھی کہ وہ بیرون ممالک کے دوروں کے پیش نظر سرکاری پاسپورٹس حاصل کرے جس پر صوبائی محکموں سے ملازمین کی جانب سے این اوسی حصول کے لئے درخواستیں دیدی گئی ہے ۔
سرکاری محکموں کے ملازمین نے اچانک سرکاری پاسپورٹس کے لیے درخواستیں دے دیں ۔۔ وجہ کیا بنی ؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اسلام آباد کی مسجد میں حملہ کرنیوالے خودکش بمبار کی شناخت ہوگئی
-
وزارت خزانہ نے گریڈ 1تا15 کے سرکاری ملازمین کو خوشخبری سنا دی
-
تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش، محکمہ موسمیات کا شہریوں کو الرٹ جاری
-
متحدہ عرب امارات کا پاکستانیوں کیلئے ورک ویزے سے متعلق بڑا اعلان
-
نئے کرنسی ڈیزائن نوٹ عید پر دستیاب ہوں گے یا نہیں؟ گورنر اسٹیٹ بینک نے بتا دیا
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن اضافہ
-
رمضان میں سرکاری دفاتر کے اوقات کار کیا ہوں گے؟ اہم اعلان ہو گیا
-
عرب حکمرانوں کی شکار کیلئے پاکستان آمد، مقامی زمینداروں اور انتظامیہ کی اوچھی حرکات سابق آئی جی ذو...
-
چاندی کی قیمتوں میں اچانک کمی، کلو کے حساب خریدنے والے کنگال ہوگئے
-
پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 21 ہزار سے زائد کی کمی
-
نوشکی،احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ، پل بھی دھماکے سے اڑا دیا گیا
-
اسلام آباد میں خود کش دھماکا، متعدد افراد زخمی، ہلاکتوں کا خدشہ
-
حکومت کا کرنسی تبادلے کے معاملے میں بینکوں کو آزاد کرنے کا اعلان
-
پاکستان کا اعزاز، 58 سائنسدان دنیا کے ٹاپ 2 فیصد افراد کی بااثر محققین کی فہرست میں شامل



















































