جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

پاکستان کے کس آرمی چیف کوایک گورنر نے اغوا کر کے ان سے استعفیٰ لے لیا تھا ۔۔وہ طاقتور گورنر کون تھا ؟

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) روزنامہ نوائے وقت کے سینئیر کالم نگار فضل حسین اعوان اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں لکھتے ہیںجنرل راحیل شریف نے جس طرح دہشتگردوں کا گھیراؤکیا اور بھارت کو منہ توڑ جواب دیا اس سے وہ قوم کے ہیرو اور محسن ٹھہرے۔میسروی بھی ایسے ہی پاکستانیوں کے ہیرو اور محسن تھے۔لیفٹیننٹ جنرل سر فرینک والٹر میسروی کو قائم مقام فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پاکستانی فوج کا پہلا سربراہ نامزد کیا گیا۔
انھی کے دور میں 22 اکتوبر 1947 کو آپریشن گلمرگ شروع ہوا اور پاکستانی قبائلی لشکر پیش قدمی کرتا ہوا سری نگر کے مضافات تک پہنچ گیا۔جنگِ کشمیر یکم جنوری 1949 کو ’جو جہاں ہے وہیں رک جائے‘ کے اصول کے تحت اقوامِ متحدہ کی کوششوں سے تھمی۔ تاہم جنرل میسروی کی 35 سالہ فوجی ملازمت کی میعاد دس فروری 1948 کو دورانِ جنگ ہی ختم ہوگئی۔بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی گورنر جنرل ماونٹ بیٹن اور کمانڈر انچیف سر روب لاک ہارٹ جنرل میسروی سے خوش نہیں تھے کیونکہ میسروی نے انھیں قبائلیوں کی پیش قدمی کے بارے میں بروقت آگاہ نہیں کیا تھا۔جنرل میسروی کا موقف تھا کہ وہ ایسی رازدارانہ معلومات صرف پاکستانی گورنر جنرل اور حکومت کو دینے کے پابند ہیں۔جنرل راحیل شریف نے معاملات جہاں چھوڑے ہیں وہاں سے آگے لے جا کر اور ان کو حتمی انجام تک پہنچا کے نئے آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ قوم کے تیسرے محسن ہوسکتے ہیں۔
جہاں پاکستان کے ایک مظلوم آرمی چیف جنرل گل حسن کا تذکرہ بھی برمحل ہوگا۔”سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو، آرمی چیف جنرل گل حسن کو تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ گل حسن کو جی ٹی روڈ کے ذریعے کار پر لاہور روانہ کیا گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ ایک اعلیٰ اجلاس میں شرکت کرنی ہے اور پیشکش کی گئی کہ گورنر اور ایک وزیر کے ساتھ لاہور چلے جائیں۔ یہ 3 مارچ 1972ء کا دن تھا، پنجاب کے گورنرغلام مصطفیٰ کھر تھے۔ کار میں یہ دونوں صاحبان جنرل کے دائیں بائیں بیٹھ گئے۔ ایک گھنٹے تک گل حسن کو پتہ ہی نہ چل سکا کہ وہ جبری حراست میں ہیں۔ جب شک کا اظہار کیا تو صدر پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھیوں نے انکی پسلیوں پر پسٹل رکھ دئیے۔ سی این سی کی کار جونہی پنڈی سے لاہور کی طرف روانہ ہوئی عین اس وقت وزیر خزانہ مبشر حسن کو لے کر ایک ہیلی کاپٹر اوکاڑہ کی طرف محوِ پرواز ہوگیا۔ اوکاڑہ سے جی او سی جنرل ٹکا خان کو ساتھ لیا اور جنرل گل حسن کے لاہور پہنچنے سے قبل ٹکا خان اسلام آباد پہنچ چکے تھے۔ ٹکا خان پر اپنی طلبی کا مقصد اس وقت واضح ہوا جب انکے کندھوں پر آرمی چیف کے کراؤن لگائے جا رہے تھے۔ گل حسن لاہور پہنچے تو ٹکا خان فوج کا چارج سنبھال چکے تھے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…