ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

پاک فوج کےسابق فورسٹارجنرلزکوکون کون سی سرکاری مراعات ملتی ہیں اورکیاپابندیاں عائدہوتی ہیں ،سپیشل رپورٹ میں اہم انکشاف

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان کے تمام سرکاری اداروں میں جس طرح ملازمین کومراعات حاصل ہیں اسی طرح پاکستان آرمی بھی دیگراداروں کی طرح پاکستان کی حفاظت کانگہبان سب سے بڑاادارہ ہے اور

پاکستانی فوج میں بھی سروس، رینک اور مدتِ ملازمت کو مدنظر رکھتے ہوئے افسران اور جوانوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد مختلف سہولیات آئین کے مطابق دی جاتی ہیں۔

پاک فوج میں جس طرح دوسرے فوجی افسران کومراعات کی جاتی رہیں ہیں اسی طرح پاک فوج کے پیرکے روزسبکدوش ہونے والے دواعلی فوجی افسران چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود اور

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو بھی دیگر سرکاری ملازمین کی طرح مراعات دی جائیں گی جن میں پینشن اوطبی مراعات دی جائیں گی جبکہ طبی مراعات کے لئے پاک فوج میں علاج معالجے کےلئے کسی عہدے کی کوئی قید نہیں ہے بلکہ یہ مراعات پاک فوج کے ایک سپاہی سے لیکرایک اعلی فوجی افسرتک ایک ہیں ۔

پاک فوج کے سربراہ اورجوائینٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیرمین کوملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد زندگی بھرتین ذاتی ملازم دیئے جاتے ہیں جن میں ایک ذاتی اسٹنٹ ،آپریٹراورڈرائیورشامل ہیں جبکہ ایک پلاٹ بھی ذاتی مکان کی تعمیرکےلئے دیاجاتاہے جبکہ ان کودیاگیاسرکاری پاسپورٹ ان کی زندگی بھرکےلئے ہوتاہے ۔

پینشن اور طبی سہولیات ان مراعات کا لازمی حصہ ہیں لیکن پاکستانی فوج میں علاج معالجے کے لیے عہدے کی کوئی قید بھی نہیں۔پاک فوج کے ریٹائرڈہونے والے افسران پردوسال تک انٹرویودینے کی پابندی ہوتی ہے تاہم اس مدت کے دوران جی ایچ کیوسے اجازت کے بعد بھی اعلی افسران بھی انٹرویودے سکتے ہیں اس کے بارے

میں پاک فوج کے ایک سابق ایجوٹینٹ جنرل لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگوکرتے ہوئے بتایاکہ ‘عام طور پر فور سٹار جنرلز کو عمر بھر کے لیے سکیورٹی نہیں دی جاتی۔ تاہم ریٹائرمنٹ کے بعد جب تک انٹیلی جنس ادارے کلیئرنس نہ دیں، ان کوفوج کے کمانڈوزکی سکیورٹی ملتی ہے ۔

انہوں نے مزید بتایاکہ ‘ملک میں رائج قوانین کے تحت تمام فوجی اور سول سرکاری افسران کی طرح فور سٹار جنرلز کو بھی ایک پلاٹ لیز پر دیا جاتا ہے جہاں وہ گھر تعمیر کر سکتے ہیں اور یہ عموماً 16 سو گز کا ہوتا

ہے اوراسی طرح جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو بھی دیگر سرکاری ملازمین کی طرح مراعات دی جائیں گی جبکہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف اپنا یہ پلاٹ پہلے

ہی شہداء فنڈ کے لیے وقف کر چکے ہیںاوریہی سہولتیں ملک کے تمام وزرائے اعظم اوراعلی سول افسران کوبھی قوائد کے مطابق حاصل ہیں اورپاک فوج کے فور سٹار جنرلز کو پرسبکدوش ہونے کے بعد بیرون ملک جانے پرکوئی پابندی عائد نہیں اورمرضی سے بیرون ملک جاسکتے ہیں ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…