جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

65کی جنگ میں جنرل راحیل شریف کے بھائی شبیر شریف شہید کو ستارہ امتیاز سے کیوں نوازا گیا ؟

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (ایکسکلوژو رپورٹ )خاک اور خون میں میں اٹے قافلوں میں ہجرت کرکے آنے والے ہمارے بزرگوں کی میراث سرزمین پاکستان وہ زرخیز زمین ہے جہاں کی مائوں نے ایسے جانباز سپوت پیدا کئے جن کی مثال رہتی دنیاتک قائم و دائم رہے گی۔ خواہ وہ کوئی شعبہ ہو ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کبھی بھی بنجر نہیں رہا ۔ اس دنیائے آب و گل میں جتنے بھی ممالک موجود ہیں پاکستان نے ان سب پر واضح کیا کہ ہم وہ قوم ہیں جسے اپنا وقار دنیا میں سب سے زیادہ عزیز ہے ۔ اور پھر جب بات ہو افواج پاکستان کی تو یہ بات دنیا مانتی ہے کہ وطن عزیز پر ہر آن قربان ہونے کیلئے تیار رہنے والے پاکستان کے سپوت دنیا کے بہترین سپاہی ہیں۔
پاکستان پر کئی بار دشمنوں نے بری نظر ڈالی، ہمیں نیچا دکھانے کی کوشش کی مگر سب پر اچھے سے واضح ہو گیاکہ ہم وہ لوہے کا چنا ہیں جو آسانی سے کسی کا تر نوالہ نہیں بن سکتے ۔ حریت اور آزادی سےپیا ر ہمیں ہمارے خون میں ملا ہے ۔ کئی سو برس ہمارے ساتھ رہنے والی اور اکھنڈ بھارت کا نعرہ جپنے والی ہندو قوم جسے آج بھی پاکستان ہضم نہیں ہو سکا، اس نے کئی بار پاکستان کی خود مختاری اور آزادی پر حملہ کرتے ہوئے ہماری پشت میں خنجر گھونپنے کی کوشش کی مگر شاید وہ جانتی نہیں تھی کہ افواج پاکستان ہر دم ہر آن چوکس رہتی ہیں ۔ اسی شیر دل فوج کے موجودہ سربراہ جنرل راحیل شریف کے بھائی شبیر شریف شہید کے نام سے سب واقف ہیں ،انہیں 1965ءکی پاک بھارت جنگ میں تیسرے بڑے فوجی اعزاز ستارہ جرات سے نوازا گیا۔شبیر شریف کو یہ فوجی اعزاز ایسے کارنامے پر ملا تھا جسے جان کر آپ بھی ان کی بہادری کی داد دیں گے ۔ہوا کچھ یوں کہ 1965میں لیفٹیننٹ شبیر شریف دشمن کے نرغے میں رہ جانے والی پاکستانی فوجی گاڑی کو دو جانباز ساتھیوں کے ہمراہ دشمن کی برستی ہوئی گولیوں سے نکال کر لے آئے ۔شبیر شریف کو اسی وجہ سے ستارہ جرات سے نوازا گیا ۔واضح رہے کہ انہیں شبیر شریف کو 71کی جنگ میں ان کی بے مثال شجاعت کی بنا پر پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…