جمعرات‬‮ ، 22 جنوری‬‮ 2026 

لائسنس کی معطلی،عدلیہ کے بارے میں لائیو نازیبا الفاظ کا استعمال نجی ٹی وی کوبھاری پڑ گیا

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی)جیسا کہ سچ ٹی وی چینل پر مورخہ 17 نومبر 2016 ؁ء کو صبح 8سے9 بجے پروگرام آج کے اخبار نشر ہوا جس کے دوران 8:46 بجے ایک کالر علی نواز کی کال نشر کی گئی جس میں اس نے اعلیٰ عدلیہ کے خلافہتک آمیز اور نازیبا الفاظ استعمال کیے جو کہ براہِ راست نشر ہوئے ۔ مزید برآں مذکورہ بالا کالر اس سے پہلے

بھی کچھ اور چینلز پراعلیٰ عدلیہ کے خلاف ایسے ہے ہتک آمیز اور نازیبا الفاظ استعمال کرتا رہا ہے۔ جبکہ،چینل کا یہ عمل آئین کے آرٹیکل 19 ،204اور پیمرا آرڈیننس2002 ، پیمرا (ترمیمی )ایکٹ 2007کے سیکشن 20(c)، پیمرا رولز 2009کی شق 15(1)،پیمرا (ٹیلیویژن براڈکاسٹ اسٹیشن آپریشنز)ریگولیشن 2012کی ریگولیشن 18(c)، الیکٹرانک میڈیاضابطۂ اخلاق 2015کی شق3(1-j)اور لائسنس حاصل کرتے وقت جن قوائد و ضوابط پر دستخط کیے گئے ،اُن کی بھی صریحاََ خلاف ورزی ہے۔لہٰذا بذریعہ اظہارِ وجوہ نوٹس ہٰذا،

سچ ٹی وی چینل سے سات (7)یوم یعنی مؤرخہ26 نومبر 2016 ؁ء سہ پہر4بجے تک جواب طلب کیا جاتا ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت کرے کہ کیوں نہ لائسنس ہولڈر پراعلیٰ عدلیہ کے خلاف ہتک آمیز اور نازیبا الفاظ نشر کرنے پر :سیکشن 30 کے تحت سچ ٹی وی چینل کا لائسنس معطل کر دیا جائے ؟یاسیکشن 30 کے تحت سچ ٹی وی چینل کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے ؟مزید برآں سچ ٹی وی چینل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو مورخۂ 26نومبر 2016 ؁ء صبح12بجے اپنے دفاع میں ذاتی شنوائی کیلئے بھی بُلا یا جاتا ہے ۔ مقررہ تاریخ اور وقت تک جواب نہ ملنے اور ذاتی شنوائی سے غیر حاضری کی صورت میں پیمرا یکطرفہ کاروائی کرنے کا مجاز ہو گا ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…