ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

داعش کا نیٹ ورک پاکستان میں ہے ، وقت کیساتھ وہ کیا کر رہی ہے؟ سابق وزیر داخلہ نے بڑا دعوی کر دیا

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی)سابق وزیر داخلہ اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما رحمن ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں داعش کا نیٹ ورک موجود ہے اور وہ تیزی کے ساتھ مضبوط ہورہی ہے ٗحکومت میں شامل کچھ داعش کی موجودگی کا اعتراف اور کچھ انکار کرتے ہیں ٗ حقیقت سے قوم کو آگاہ کر نا چاہیے ۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رحمن ملک نے کہاکہ اگر حالیہ واقعات کو دیکھا جائے تو واضح طور پر اندازہ ہوتا ہے القاعدہ کا نیٹ کمزور ہوا ہے ٗداعش اس وقت پاکستان کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے۔انھوں نے کہا کہ آج سے دو سال قبل 2014 میں انھوں نے پاکستان میں داعش کے پھیلاؤ اور ان علاقوں کی بھی نشاندہی کی تھی

جہاں پر عراق سے دہشتگردوں نے آکر یہاں لوگوں کو تربیت دی تھی۔انہوںنے کہاکہ کچھ ایسے واقعات کا انہیں علم ہے جن میں داعش کے لوگ یہاں سے تربیت لینے کیلئے عراق اور مصر جیسے ممالک جاتے ہیں اور جب وہ وہاں سے واپس آتے ہیں تو لشکر جھنگوی جیسے گروپ کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔رحمن ملک نے کہاکہ یہی طریقہ القاعدہ نے بھی استعمال کیا تھا اور ان کے دہشت گرد افغانستان سے تربیت لے کر پاکستان آئے اور یہاں آکر انھوں نے بڑی کارروائیاں کیں۔انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں حال ہی میں ہونے والے دو بڑے حملوں کی

ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا نیٹ ورک ایک کم وقت میں ناصرف منظم ہوا ہے بلکہ وہ اب بڑی کارروائی کرکے اپنا رنگ بھی دکھا رہی ہے۔اس سوال پر کہ حکومت تو کہتی ہے کہ بلوچستان میں مختلف کالعدم تنظیمیں صرف داعش کا نام استعمال کرکے کارروائیاں کررہی ہیں تو کیا آپ سمجھتے ہیں ایسا ہوسکتا ہے؟ سابق وزیر داخلہ نے کہاکہ حکومت میں شامل کچھ لوگ کہتے ہیں کہ داعش موجود ہے، کچھ اس سے انکار کرتے ہیں، لہذا قوم کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ حقیقت کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر تو داعش موجود نہیں ہے تو پھر وہ لوگ کون ہیں جو مختلف شہروں میں داعش کی وال چاکنگ کرتے ہیں جن کو اب تک گرفتار نہیں کیا جاسکا۔ان کا کہنا تھا کہ انھوں ماضی بھی داعش کے وجود کی بات کی تھی اور آج بھی اسی بات پر قائم ہیں، لہذا حکومت کو ان کی بات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…