جمعرات‬‮ ، 26 مارچ‬‮ 2026 

افغانستان کو پاکستان کا ایک صوبہ سمجھنے کی بجائے یہ کام کریں،پیپلزپارٹی کے اہم رہنما نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے فاٹا ریسرچ سنٹر کی جانب سے اسلام آباد میں منعقد کئے جانے والے سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ہر صورت میں اپنی افغان پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے اور افغانستان کو پاکستان کا ایک صوبہ سمجھنے کی بجائے اسے ایک خود مختار ملک سمجھنا ہوگا اور یہ بات قبائلی علاقوں میں سماجی، سیاسی اور معاشی اصلاحات کی کامیابی کے لئے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں امن اور ترقی اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک افغانستان میں بھی امن نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہماری افغان پالیسی کے اندر ایسے متعدد سوالات موجود ہ جن کے جواب نہیں دئیے گئے اور ان کے جواب دینے کی ضرورت ہے۔ حالیہ اصلاحات پیکیج پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس علاقے کو ڈی ملٹرائز کرنے کی بجائے اس پیکیج میں اسے مزید ملٹرائز کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دس سالہ ترقیاتی پیکیج کی مالیت 800ارب روپے ہے اور اس خطیر رقم کو صرف سول اور ملٹری بیوروکریسی کے ہاتھوں میں نہ چھوڑ دیا جائے بلکہ قبائلی علاقوں کے منتخب نمائندوں کو بھی اس ترقی کے عمل میں شامل کیا جائے تاکہ احتساب شفافیت اور

نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ سول ملٹری بیوروکریسی کو یہ خطیر رقم اپنے طور پر خرچ کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ رواج ایکٹ کے ذریعے صوبے میں تین قوانین نافذ ہو جائیں گے۔ اضلاع کے لئے، صوبائی زیر انتظام قبائلی علاقوں کے لئے اور دیگر قبائلی علاقوں کے لئے الگ الگ قوانین ہوں گے۔ اس طرح صوبے میں ان قوانین سے مشکلات پیدا ہوں گی۔ انہوں نے رواج ایکٹ پارلیمانی سکروٹنی کا مطالبہ کیا۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے تجویز دی کہ قبائلی علاقوں میں لیویز کی فورس بنائی جائے جو کہ پولیس کے برابر اختیارات رکھتی ہو اور اس کی سربراہی پولیس افسر کریں نہ کہ پولیٹیکل ایجنٹ اور فوجی کمانڈر اس کی سربراہی کریں جیسا کہ ابھی ہو رہا ہے۔ اصلاحی پیکیج کے متعلق لیویز کی تعداد 12000 سے بڑھ کر تقریباً 33000 ہو جائے گی جو کہ خیبرپختونخواہ کی پولیس کی تعداد کی نصف ہوگی۔ اگر قبائلی علاقوں کو پانچ سالوں کے اندر خیبرپختونخواہ صوبے میں ضم کیا جاتا ہے تو یہ ضروری ہو جائے گاکہ لیویز کو ان پانچ سالوں میں پولیس میں ضم کر دیا جائے۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…