ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کو ایک ہفتے کی مہلت۔۔سپریم کورٹ میں کیا ہوا؟ اندر کی کہانی

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (آن لائن) مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے دائر درخواست پر جہانگیر ترین نے جواب جمع کرا دیا ، سپریم کورٹ نے عمران خان کے وکیل حامد خان کو جواب دینے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دے دی۔سپریم کورٹ میں عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس انوار ظہیرجمالی کی سربراہی میں جسٹس امیر ہانی مسلم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی ، عمران خان کے وکیل نے جواب جمع کرانے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت مانگی حنیف عباسی کے وکیل نے عدالت سے استداعا کی کہ اس کیس کوبھی لارجر بینچ کے ساتھ سنا جائے اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان کے جواب آنے کہ بعد فیصلہ کریں گے جبکہ جہانگیر ترین نے اپنے وکیل سکندر بشیر کے توسط سے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرا دیا ، وکیل نے جواب میں بتایا کہ جہانگیر ترین کی اپنی کوئی آف شور کمپنی نہیں نہ پاناما لیکس میں نام آیا ، ان کے بچوں کی آف شور کمپنی ہے اور ٹیکس ریٹرن میں اسکا ذکر کیا جاتا ہے۔ جہانگیر ترین نے جواب میں کہا کہ ان کے خلاف درخواست ردعمل میں دائر کی گئی ، کبھی کوئی ٹیکس چوری نہیں کی ، ٹیکس سے متعلق ٹرائل کورٹ ان کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے ، ان کے خلاف لگے الزامات بے بنیاد ہیں، درخواست خارج کی جائے۔ عدالت نے کہا کہ عمران خان کے جواب کی روح کی روشنی میں کیس کو لارجر بینچ میں سننے کا فیصلہ کریں گے۔ کیس کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…