ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

’’دو مخالفین مل بیٹھے ‘‘ وزیراعظم اچانک سردارعتیق کے گھر پہنچ گئے

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

ٓاسلام آباد (رئیس احمد خان )آزاد کشمیر میں وضع داری اور مفاہمت کی سیاست کیلئے نئے دور کا آغاز ‘ وزیراعظم آزادکشمیرراجہ محمد فاروق حیدر خان کی جانب سے سیاسی رواداری کا عملی مظاہرہ ،تحریک آزادی کشمیر کے لیے تمام تر اختلافات بھلا کر مسلم کانفرنس کی جانب سے لائن آف کنٹرول توڑنے کی کال کے حوالے سے اپنے سیاسی حریف سابق وزیراعظم سردار عیتق احمد خان کے ساتھ ملاقات کیلئے ان کے گھر مجاہد منزل راولپنڈی پہنچ گئے ،صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان ،ممبر اسمبلی سردار صغیر چغتائی ،راجہ یاسین سمیت دیگر راہنماوں نے وزیراعظم کا استقبال کیا ۔ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے گزشتہ روز سابق وزیراعظم وصدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان سے مجاہد منزل میں ملاقات کی اس موقع پر دیگر مسلم کانفرنسی راہنما بھی موجود تھے ۔وزیراعظم آزادکشمیر نے سردارعتیق احمد خان کے چوبیس نومبر کے لائن آف کنٹرول توڑنے کی کال کے حوالے سے بات چیت کی ،وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے اندر تحریک آزادی میں گزشتہ تین ماہ سے شدت آئی ہے اور حالات کا تقاضہ ہے کہ ایسی کسی بھی مہم جوئی سے گریز کیا جائے جس سے لائن آف کنٹرول کے اس پار منفی پیغام جاے آزادکشمیر ایک پرامن خطہ ہے اور یہاں مکمل طور پر سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہے کسی ایسی سرگرمی جس سے بدنظمی یا ٹکراو کی کیفیت پیدا ہو موجودہ حالات میں تحریک آزادی کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے سردار عتیق احمد خان نے معاملہ پر مشاورت کی یقین دہانی کرواتے ہوے کہا کہ تحریک آزادی کے معاملات مقامی سیاست سے بالاتر ہیں اس کے لیے ساری سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر ہیں ،، وزیراعظم نے کہا کہ مسلہ کشمیر پر تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لیکر چلنا حکومت آزادکشمیر کی بنیادی ذمہ داری ہے آزادکشمیر کی سیاسی قیادت پر موجودہ حالات میں بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سیاسی اختلافات کو بالاے طاق رکھتے ہوے تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کریں اس حوالے سے حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی تحریک آزادی کشمیر ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ دریں اثناء کشمیر ہاؤس میںآزادکشمیر کے مختلف اضلاع سے آنے والے وفود سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہاکہ عام آدمی کو ضروریات زندگی کی فراہمی سرکاری اداروں کی کارکردگی بڑھانے اور ریاستی آمدن میں اضافے کے لیے طویل المعیاد منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ جماعتی کارکنان ہمارا اثاثہ اور حکومت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ کارکنوں کے مسائل اور مشکلات سے ذاتی طور پرآگاہ ہوں ۔ ابتداء میں اگرچہ سابقہ حکومتوں کی نالائیکیوں کی وجہ سے کچھ مشکلات ہیں مگر حکومت کارکنان کی امیدوں پر پورا اترے گی۔
جلدآزادکشمیر کے تمام اضلاع اور انتخابی حلقہ جات کا تفصیلی دورہ کروں گا۔ضلعی تنظیمیں یوتھ ونگ ایم ایس ایف حکومت کی نچلی سطح پر ترقیاتی عمل کو مانیٹر کرے جہاں کہیں بھی کوئی خرابی دیکھے اس کی نشاندہی کرے اقتدار کو گاؤں اور محلے کی سطح تک پہنچانے کیلئے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جا رہا ہے جس میں نوجوانوں خواتین اور سینئر تجربہ کار لوگوں پر مشتمل منتخب نمائندے عوامی مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں گے۔وزیراعظم آزادکشمیر نے کہاکہ گوڈ گورننس کے بنیادی تصورا ت جن میں شفافیت اور جوابدہی شامل ہیں کو آزادکشمیر کے تمام محکمہ جات میں نافذ العمل کیا جائے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…