ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

نیوزگیٹ سکینڈل میں برطرف وزیراطلاعات پرویزرشید کو بڑی حمایت مل گئی

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(آئی این پی)چیئر مین سینیٹ میاں رضا ربانی نے سینیٹ میں سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید کا شاندار استقبال کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹر پرویز رشید کو دوبارہ ہاؤس میں آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں ،عہدہ آنی جانی چیز ہے ،پرویز رشید نے وزارت کی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں،ہر ادارے میں اپنے رولز کے مطابق تحقیقات ہوتی ہیں،جج کیخلاف تحقیقات آرٹیکل 209 کے تحت اور فوج میں کسی کیخلاف تحقیقات آرمی ایکٹ کے تحت ہوتی ہیں،اسلئے سینیٹرز کے بارے میں تحقیقات سینٹ کی اخلاقیات کمیٹی کے ذریعے ہونی چاہئیں اور اسی طرح انگریزی اخبار میں شائع قومی سلامتی اجلاس سے متعلق خبر

کے معاملے پر پرویز رشید سے تحقیقات بھی سینٹ کی اخلاقیات کمیٹی کے ذریعے ہی ہونی چاہئیں، پورا ایوان اپنے معزز سینیٹر پرویز رشید کے ساتھ ہے اور وہ چاہیں تو ہم یہ معاملہ اٹھا سکتے ہیں ۔ جمعہ کو سینیٹ اجلاس میں چیئر مین سینیٹ میاں رضا ربانی اور ارکان نے وزارت سے مستعفی ہونے کے بعد پہلی دفعہ آمد پر سینیٹر پرویز رشید کا شاندار استقبال کیا۔اس موقع پر چیئر مین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ سینیٹر پرویز رشید کو دوبارہ ہاؤس میں آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں ،عہدہ آنی جانی چیز ہے ،پرویز رشید نے وزارت کی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں،انگلش اخبار میں قومی سلامتی اجلاس سے متعلق خبر کے معاملے کے بعد پرویز رشید سے کئی دفعہ رابطہ کر نے کی کوشش کی،اور پرویز رشید کے گھر پر بھی پیغام دیا مگر ان سے رابطہ نئی ہوسکا،پرویز رشید سے رابطہ کرنے کا مقصد صرف ان سے اظہار یکجہتی کرنا تھا کہ انگلش اخبار میں قومی سلامتی اجلاس سے متعلق خبر کے معاملے پرسینیٹ پرویز رشید کیساتھ ہے ،انہوں نے کہا کہ میڈیا رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ سینیٹر پرویز رشید کیخلاف انگلش اخبار میں قومی سلامتی اجلاس سے متعلق خبر کے معاملے پر تحقیقات شروع کی جا رہی ہیں،ہر ادارے میں اپنے رولز کے مطابق تحقیقات ہوتی ہیں،جج کیخلاف تحقیقات آرٹیکل 209 کے تحت اور فوج میں کسی کیخلاف تحقیقات متعلقہ ایکٹ کے تحت ہوتی ہیں،اسلئے سینیٹرز کے بارے میں تحقیقات سینٹ کی اخلاقیات کمیٹی کے ذریعے ہونی چاہیے،پرویز رشید چاہیں تو یہ معاملہ اٹھا سکتے ہیں ۔ تما م سینیٹرز نے بھی سینیٹر پرویز رشید کاڈیسک بجاکر خیرمقدم کیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…