جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

ایف سی اہلکار سے تھپڑ کھانے کے بعد صائمہ کنول کو ایک اور تھپڑ پڑ گیا ۔۔۔۔مگر کس سے اور کیوں ؟

datetime 22  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) نجی ٹی وی چینل پر ایک پروگرام میں مہر بخاری نے ایف سی اہلکار سے تھپڑ کھانے والی خاتون صحافی صائمہ کنول کو اپنی تنقید کا کرارا تھپڑ دے مارا۔ایک سوال کے جواب میں مہر بخاری کا کہنا تھا کہ صحافت ہر وقت ہر جگہ تھنڈا دماغ مانگتی ہےجبکہ صائمہ کی جانب سے غصے میں آتے ہوئے ایف سی اہلکار سے بدتمیزی سے بات کرنا اور ان کا کالر پکڑ کر اپنی طرف کھینچنا ایک ناقابل قبول عمل تھا جس کانتیجہ انہیں بھگتنا پڑ ا۔مہر بخاری نے کہا کہ ہمیں کسی اور پر کیچڑ اچھالنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لینا چاہئے ۔
واضح رہے کہ ایک اور نجی ٹی وی چینل پر سینئر صحافی کامران خان نے متاثرہ خاتون سے سوال کیا کہ کیا آپ نہیں جانتی تھیں کہ اس قدر کشیدہ ماحول میں اسلحہ بردار کسی سیکیورٹی اہلکار کا پیچھے سے یونیفارم پکڑ کر کھینچنا ایک غیر سنجیدہ حرکت تھی، اس کے ہاتھ میں موجود اسلحہ اچانک چل کر وہاں موجود لوگوں کو نقصان بھی پہنچا سکتا تھا ۔ جس پر خاتون صحافی نے جواباً کہا کہ میں بس یہ دیکھ رہی تھی کہ یہ شخص عام گارڈ ہے یا سیکیورٹی اہلکار جس پر کامران خان نے انہیں آڑے ہاتھ لیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بھی بنایا ۔
یاد رہے کہ کراچی نادرا آفس میں سکیورٹی کے فرائض سرانجام دینے والے ایف سی اہلکار کے خاتون اینکر کو تھپڑ مارنے کے واقعے پر وزیر داخلہ نے نوٹس لیکر انکوائری کا حکم دیدیا جبکہ خاتون رپورٹر اورایف سی اہلکار نے ایک دوسرے کے خلاف ایف آئی آرزدرج کرادیں ۔ایک نجی ٹی وی کے مطابق کراچی لیاقت آباد کے نادرا آفس میں مسائل کی نشاندہی کرتی خاتون اینکر کی فرنٹیئر کانسٹیبلری اہلکار سے تکرار ہو گئی۔ اہلکار کی بدتمیزی پر احتجاج کیا تو جواب میں خاتون کو تھپڑ دے مارا۔ خاتون اینکر نے اہلکار کے خلاف تھانہ گلبہار میں رپٹ درج کرائی تو اہلکار نے بھی جوابی کار سرکار میں مداخلت، اسلحہ چھیننے اور یونیفارم پر ہاتھ ڈالنے کے الزامات میں مقدمہ درج کرا دیا۔ادھرصحافی تنظیموں نے ایف سی اہلکارکی طرف سے مقدمہ درج کرنے کی سخت مذمت کی ہے اورحکومت سے شفاف تحقیقات کامطالبہ کیاہے ۔


Meher Abbasi Response On Saima Kanwal Issue. by awaizp7



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…