اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سونے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی واضح کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے بین الاقوامی توانائی منڈی میں بے یقینی کی صورتحال مزید گہری ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی تجارتی رپورٹس کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً چار فیصد تک گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کمی کے بعد برینٹ کروڈ آئل 67 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 63 ڈالر فی بیرل کی سطح پر فروخت ہو رہا ہے۔ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، جن میں عالمی معیشت میں سست روی کے خدشات، توانائی کی طلب میں کمی اور بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی پالیسیوں سے متعلق غیر واضح صورتحال شامل ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور یورپی ممالک میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اپنائی جانے والی سخت مالی حکمت عملیوں کے باعث صنعتی سرگرمیوں کی رفتار کم ہوئی ہے، جس کا براہِ راست اثر تیل کی کھپت پر پڑ رہا ہے۔اسی طرح چین میں معاشی بحالی کی رفتار توقعات سے کم رہنے نے بھی عالمی سطح پر تیل کی طلب کو دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ دوسری جانب اوپیک پلس کی جانب سے آئندہ پیداوار سے متعلق واضح لائحہ عمل سامنے نہ آنے کے باعث سرمایہ کار محتاط نظر آ رہے ہیں۔مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی معیشت پر دباؤ مزید بڑھا تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان بھی خارج از امکان نہیں۔
ان کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک طرف درآمدی اخراجات میں کمی کی صورت میں کچھ ریلیف لا سکتی ہے، تاہم دوسری جانب توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود رہے گا۔قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی سامنے آ چکی ہے، جس کے باعث مجموعی طور پر اجناس کی منڈی میں سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔















































