پیر‬‮ ، 23 مارچ‬‮ 2026 

جوہری ہتھیاروں میں کمی کا کہنے والے پہلے خود کو دیکھیں اور پھر۔۔۔! پاکستان نے سلامتی کونسل میں کھری کھری سنادیں

datetime 15  اکتوبر‬‮  2016 |

نیویارک (این این آئی)اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب تہمینہ جنجوعہ نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں میں کمی کیلئے غیرامتیازی سلوک اختیارکرنے کی ضرورت ہے ٗبعض بڑی طاقتوں کی جانب سے جوہری ہھتیاروں کی تخفیف کیلئے دیرینہ قوانین اورضابطوں میں استثنیٰ دینے سے علاقائی سٹریٹیجک توازن متاثر ہوجاتاہے۔وہ جنرل اسمبلی کی تخفیف اسلحہ اوربین الاقوامی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے پاکستانی مندوب نے کہاکہ خصوصی انتظامات کے نام پر جوہری ہھتیاروں کی تخفیف کیلئے دیرینہ قوانین اورضابطوں میں استثنیٰ دینے سے دوہرے معیارکی عکاسی ہوتی ہے ، ایسا کرنے سے فوائد حاصل کرنے والا ملک نہ صرف جوہری پھیلاو میں اضافے کا باعث بن جاتاہے بلکہ اس سے علاقائی سٹریٹیجک سلامتی کیلئے بھی خطرات پیدا ہوتے ہیں،اس کے ساتھ ساتھ استفادہ کرنے والے اورنہ کرنے والے کے درمیان سیکیورٹی کے حوالے سے خلیج بڑھ جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ جوہری ہتھیاررکھنے والے ممالک کی جانب جوہری عدم پھیلاو کے متشرکہ ہدف کے حصول کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں عدم دلچسپی کے باعث یہ ایک موہوم خواب ہے،اس مشترکہ ہدف کے حصول کی بجائے یہ ممالک اپنی توجہ اضافی جوہری عدم پھیلاو کے ایسے امورکی طرف مبذول کررہے ہیں جس میں صرف ان کوسٹریٹیجک فائدہ ہورہاہے۔ انہوں نے کہاکہ جوہری ہتھیاررکھنے والے اکثر ممالک جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کیلئے جامع معاہدے کے ضمن میں مذاکرات کے آغاز کے مخالف ہیں کیونکہ ان ممالک کے سیکورٹی ڈاکٹرائن میں دوسرے ممالک کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے غیرمشروط استعمال کا امکان رکھا گیا ہے اسلئے سلامتی کے منفی یقین دہانیوں کے نام پر جامع مذاکرات کی راہ میں رکاوٹیں پیش آرہی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ یہی ممالک موجودہ سٹاک میں موجود تابکارموادمیں کمی کی بھی مخالفت کررہے ہیں ۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ جوہری تخفیف پر سست رو پیشرفت کی وجہ سے اس کی مخالفت میں ایک رائے قائم ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوہری تخفیف کے ضمن میں مشترکہ اہداف پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ جوہری تخفیف کی کانفرنس سے ہٹ کر اقدامات سے کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ جوہری تخفیف کے ضمن میں قوانین پر مبنی مساوی اور غیر امتیازی بین الاقوامی لائحہ عمل اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے اور ایسا تب ممکن ہے جب تمام ممالک کے سیکورٹی تحفظات کو مدنظر رکھا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…