جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

جوہری ہتھیاروں میں کمی کا کہنے والے پہلے خود کو دیکھیں اور پھر۔۔۔! پاکستان نے سلامتی کونسل میں کھری کھری سنادیں

datetime 15  اکتوبر‬‮  2016 |

نیویارک (این این آئی)اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب تہمینہ جنجوعہ نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں میں کمی کیلئے غیرامتیازی سلوک اختیارکرنے کی ضرورت ہے ٗبعض بڑی طاقتوں کی جانب سے جوہری ہھتیاروں کی تخفیف کیلئے دیرینہ قوانین اورضابطوں میں استثنیٰ دینے سے علاقائی سٹریٹیجک توازن متاثر ہوجاتاہے۔وہ جنرل اسمبلی کی تخفیف اسلحہ اوربین الاقوامی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے پاکستانی مندوب نے کہاکہ خصوصی انتظامات کے نام پر جوہری ہھتیاروں کی تخفیف کیلئے دیرینہ قوانین اورضابطوں میں استثنیٰ دینے سے دوہرے معیارکی عکاسی ہوتی ہے ، ایسا کرنے سے فوائد حاصل کرنے والا ملک نہ صرف جوہری پھیلاو میں اضافے کا باعث بن جاتاہے بلکہ اس سے علاقائی سٹریٹیجک سلامتی کیلئے بھی خطرات پیدا ہوتے ہیں،اس کے ساتھ ساتھ استفادہ کرنے والے اورنہ کرنے والے کے درمیان سیکیورٹی کے حوالے سے خلیج بڑھ جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ جوہری ہتھیاررکھنے والے ممالک کی جانب جوہری عدم پھیلاو کے متشرکہ ہدف کے حصول کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں عدم دلچسپی کے باعث یہ ایک موہوم خواب ہے،اس مشترکہ ہدف کے حصول کی بجائے یہ ممالک اپنی توجہ اضافی جوہری عدم پھیلاو کے ایسے امورکی طرف مبذول کررہے ہیں جس میں صرف ان کوسٹریٹیجک فائدہ ہورہاہے۔ انہوں نے کہاکہ جوہری ہتھیاررکھنے والے اکثر ممالک جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کیلئے جامع معاہدے کے ضمن میں مذاکرات کے آغاز کے مخالف ہیں کیونکہ ان ممالک کے سیکورٹی ڈاکٹرائن میں دوسرے ممالک کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے غیرمشروط استعمال کا امکان رکھا گیا ہے اسلئے سلامتی کے منفی یقین دہانیوں کے نام پر جامع مذاکرات کی راہ میں رکاوٹیں پیش آرہی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ یہی ممالک موجودہ سٹاک میں موجود تابکارموادمیں کمی کی بھی مخالفت کررہے ہیں ۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ جوہری تخفیف پر سست رو پیشرفت کی وجہ سے اس کی مخالفت میں ایک رائے قائم ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوہری تخفیف کے ضمن میں مشترکہ اہداف پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ جوہری تخفیف کی کانفرنس سے ہٹ کر اقدامات سے کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ جوہری تخفیف کے ضمن میں قوانین پر مبنی مساوی اور غیر امتیازی بین الاقوامی لائحہ عمل اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے اور ایسا تب ممکن ہے جب تمام ممالک کے سیکورٹی تحفظات کو مدنظر رکھا جائے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…