جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

متحدہ کے بانی کی منی لانڈرنگ میں بریت ،بھارت سے فنڈنگ کامعاملہ فاروق ستار کوسب کوپتہ تھا،اہم رہنما نے وفاقی حکومت کوذمہ دارقراردیدیا

datetime 14  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (آن لائن) قائد ایم کیو ایم کواسکاٹ لینڈیارڈکی طرف سے بری الذمہ قراردیئے جانے پرسرفرازمرچنٹ نے کہاہے کہ وفاقی حکومت نے اپنی ذمہ داری ہی ادانہیں کی اورنہ ہی کیس کو سنجید ہ لیاگیا،ایک معمولی سے آرٹیکل پرگرفتاریاں شروع ہوجاتی ہیں دوسری طرف راسے فنڈنگ اورمنی لانڈرنگ کاالزام تھالیکن حکومت نے دانستہ طورپرکچھ نہیں کیا۔گزشتہ روزمیڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ایف آئی اے اورپولیس نے اسکاٹ لینڈیارڈسے کبھی بھی تعاون نہیں کیا،سکاٹ لینڈکے پاس ٹھوس ثبوت تھے اورمیں کاغذات ٹی وی پرعوام کودکھاؤں گا،اگرثبوتوں کاباہمی تبادلہ ہوتاتومستقبل میں چورراستے بندہوجاتے لیکن حکومت نے جان بوجھ کرآنکھیں بندکرلیں ،۔بھارت سے فنڈنگ کامعاملہ بہت سنگین تھااورسکاٹ لینڈیارڈنے پلیٹ میں رکھ کردیاتھامگرحکومت نے اس ڈرسے دستاویزات کاتبادلہ نہیں کیاکہ کہیں پنڈوراباکس نہ کھل جائے ،اسکاٹ لینڈیارڈکے پاس ڈپٹی میئرکراچی کے اکاؤنٹس کی تفصیلات تھیں وہ بلاتے رہے مگروہ گئے ہی نہیں ۔سکاٹ لینڈیارڈنے ایک بارنہیں بلکہ کئی بارتعاون مانگامگرحکومت کرناہی نہیں چاہتی تھی اورنہ ہی کریگی،کیونکہ ان کے تانے بانے بھارت سے جاکرملتے ہیں ،میں نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے بھی ثبوت دیئے تھے حالانکہ جے آئی ٹی نے مجھے جلدبازی میں بلایاتھا۔بھارت سے فنڈنگ کامعاملہ فاروق ستارسب کوپتہ تھامگرہم نے کیس کوتھانے کاکیس بناکرخراب کردیاکیونکہ ہم نے اس کیس کوآگے نہیں چلاناتھااوریہ وہ ثبوت تھاجس کوحکومت پوری دنیاکے سامنے پیش کرسکتی تھی کہ دیکھیں ہمارے ساتھ کیاہورہاہے ،برطانیہ کوثبوت ہی نہیں دیئے گئے توکیس کیسے آگے چلتا،29نومبر2015ء کو80صفحات کاڈوزیئربھیجاتھالیکن مجھے لگ رہاہے کہ حکومت ایم کیوایم کوبچانے کیلئے آگے آئی ہے ،کیونکہ ان دستاویزات کے بعدمعاملہ ہی ختم ہوگیاہے ،یہ دستاویزات مستندہیں آج بھی اگرحکومت میں ذرابھی سنجیدگی ہے اورحکومت چاہتی ہے کہ ہمارے ملک کوبدحال نہ کیاجائے توحکومتی سطح پربات چیت کی جائے اورجس اسلحہ کی فہرست الطاف حسین کے دفترسے ملی تھی وہ اسلحہ بھی برآمدہوا،میں اس کیس کوایسے نہیں چھوڑوں گااپنے ملک کی عدالتوں سے پوچھوں گاکہ مستندثبوتوں کی موجودگی میں میرے ملک کیخلاف کیوں سازش کی گئی ،اپنے ملک کیلئے آخری حدتک جاؤں گا



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…