جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

طاہرالقادری عمران خان سے کیا ڈیمانڈ کررہے ہیں؟

datetime 10  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عمران خان اورطاہرالقادری کے بارے میں اہم خبرسامنے آگئی ہے کہ دونوں رہنماکیوں ایک دوسرے کے ساتھ مل کرنہیں حکومت کےخلاف سامنے آرہے ۔ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق عمران خان اورڈاکٹرطاہرالقادری کے درمیان لندن میں دومرتبہ ملاقات شیڈول ہوئی لیکن یہ ملاقات عمران خان کی مصروفیات کی وجہ سے نہ ہوسکی ۔رپورٹ کے مطابق ڈاکٹرطاہرالقادری چاہتے ہیں کہ عمران خان ان کے ساتھ مل کرپہلے حکومت کے خلاف گیم پلان طے کریں اورپھرحکمرانوں کے خلاف احتجاج شرو ع کریں ۔ڈاکٹرطاہرالقادری عمران خان سے یہ ڈیمانڈکررہے ہیں کہ کیونکہ عمران خان اوران کامنشوراورایجنڈاایک ہے جوکہ حکمرانوں کی کرپشن اوراداروں کی کرپشن ہے ۔طاہرالقادری کے مطابق عمران خان کی تحریک احتساب اوران کی تحریک قصاص کے مقاصدصرف اورصرف انٖصاف کاحصول ہے لیکن عمران خان نے اس طرح کےکوئی گیم پلان نہیں طے کئے ہیں جس کی وجہ سے طاہرالقادری عمران خان کاساتھ نہیں دے رہے ہیں ۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کارکنوں کو 30 اکتوبر کیلئے تیار رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے کارکنوں کو کہا ہے کہ وہ رہائش کیلئے عارضی انتظامات بھی کرکے لائیں۔
اس سے قبل نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ نگار نے کہاتھا کہ 30 اکتوبر کو اتوار ہے جس دن اسلام آباد پہلے سے ہی بند ہوگا لیکن یہ مت سمجھا جائے کہ عمران خان اسلام آباد کو صرف ایک دن کیلئے بند کرنے جا رہے ہیں۔ سینئر تجزیہ نگار نے کہا کہ عمران خان نے بڑے واضح الفاظ میں یہ بتایا ہے کہ جب تک وہ نواز شریف سے استعفیٰ نہیں لیتے تو وہ اسلام آباد سے واپس نہیں جائیں گے۔ سینئر تجزیہ نگار حامد میر نے کہا کہ میری اطلاعات کے مطابق عمران خان نے اپنے تمام رہنماؤں کو کہہ دیا ہے کہ وہ جو لوگ ساتھ لائیں گے، ان کا 4,5 دن کارشن پانی ساتھ لے کر آئیں۔ حامد میر نے کہا کہ عمران خان نے یہ اپنی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا جواء کھیلا ہے۔ عمران خان کے پاس واپسی کا راستہ نہیں ہے۔ حامد میر نے کہا کہ عمران خان نے صرف یہ اعلان نہیں کیا کہ وہ استعفے کے بغیر اسلام آباد سے واپس جائیں گے بلکہ انہوں نے ساتھ میں یہ بھی کہا ہے کہ جب تک ان کا مطالبہ پورا نہیں ہوتا ، جب تک وہ اپنا مقصد حاصل نہیں کر لیتے ،

6 by thezed-lad



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…