جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

کالا باغ ڈیم کی جلد تعمیر ،بڑا قدم اُٹھالیاگیا

datetime 5  اکتوبر‬‮  2016 |

لاہور ( این این آئی) کالا باغ ڈیم کی جلد تعمیر کے لئے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں نظر ثانی کی درخواست دائر کردی گئی۔واٹر سٹڈی فورم کے صدر میاں فضل نے اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ عدالت نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے دائر کیس میں درخواست گزار کے دلائل مکمل نہیں سنے، صرف دس فیصد دلائل مکمل کرنے پر عدالت نے تحریری دلائل جمع کرانے کا حکم دیا، قانون کی نظر میں تحریری دلائل کو کیس کی سماعت سے تشبیہ دی جاسکتی ہے اور نہ ہی درخواست گزار اپنا موقف عدالت پر واضح کرسکتا ہے، کالا باغ ڈیم کی تعمیر ملکی مفاد میں ہے اس کیس کا فیصلہ سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی مخالفت کی بجائے قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر کیا جانا وقت کا تقاضا ہے، پانی اور بجلی میں کمی کے سبب ملکی زراعت اور صنعتی پیداوار متاثر ہورہی ہے، لہذا معزز عدالت پہلے جاری کئے گئے فیصلے پر نظر ثانی کرکے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا حکم دے۔
لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لئے دائردرخواستوں پر فل بینچ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دی ۔ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مرزا وقاص رؤف اور محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔درخواست گزار اسد کھرل ، منیر احمد سمیت دیگر نے پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لئے دائر درخواستوں میں موقف اختیار کیا کہ پانامہ لیکس کی تحقیقات مفاد عامہ کا معاملہ ہے لیکن نیب خاموش تماشائی بنا ہوا ہے، 25 اپریل سے نیب کو درخواستیں دے رہے ہیں مگر تحقیقات نہیں ہو رہیں،نیب، ایف بی آر اور کسی بھی تحقیقاتی ایجنسی نے پانامہ لیکس پر تحقیقات نہیں کیں۔پانامہ لیکس میں حکمران خاندان سمیت سیاستدانوں اور کاروباری شخصیات کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے لہٰذا معزز عدالت سے استدعا ہے کہ پانامہ لیکس کے حوالے سے تحقیقات کا حکم دیا جائے۔فاضل بینچ نے درخواستوں پر فل بینچ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ اہم نوعیت کا ہے اور ان درخواستوں میں اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں ۔لہٰذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان درخواستوں کی سماعت لارجر بنچ میں کی جائے۔جس کے بعد فاضل عدالت نے فل بینچ تشکیل دینے کی سفارش کرتے ہوئے فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…