جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت سن لے اگر یہ کا م ہوا تو ۔۔۔! وزیر دفاع خواجہ آصف نے سنگین نتائج کی کی دھمکی دیدی

datetime 19  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہاہے کہ اوڑی حملے سے متعلق بھارتی الزامات آزادی کشمیر کی تحریک دبانے کی ناکام کوشش ہے، بھارت الزام تراشی کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکے،بھارتی افواج کشمیریوں کا قتل عام کررہی ہے اور آزادی کشمیر کی تحریک کو نظر انداز کرنے کیلئے پاکستان پر الزام لگایا جارہا ہے،ہم بھارت کو جواب دینے کے لئے 100فیصد تیار ہیں ،بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کی قیمت چکانا پڑے گی،،ممکن ہے بھارت نے خود ڈرامہ رچایا، ایل او سی پر کچھ ہوا تو پاکستان اپنا دفاع کرے گا ۔ اتوار کوبھارت کی جانب سے اڑی حملے کا الزام پاکستان پر لگائے جانے پر رددعمل دیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا اپنے ایک بیان میں کہنا ہے کہ اوڑی حملہ جیسا بووؤ گے ویسا کاٹو گے کی مثال ہے، بھارتی افواج کشمیریوں کا قتل عام کررہی ہے اور آزادی کشمیر کی تحریک کو نظر انداز کرنے کیلئے پاکستان پر الزام لگایا جارہا ہے۔
انہوں نے بھارت کو خبردار کیا کہ پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کی قیمت چکانا پڑے گی، جیسا کرو گے ویسا بھرو گے ، حملہ کشمیر کی تحریک آزادی کو بدنام کرنے کی سازش ہوسکتی ہے ، اڑی حملے کا الزام بھارت کو کشیدگی بڑھانے کی کوشش مہنگی پڑے گی ، بھارتی الزام تراشی کا مقصد مسئلہ سے توجہ ہٹانا ہے ۔ خواجہ آصف نے کہا کہ بھارتی فوج کشمیریوں کا قتل کر رہی ہے ،کشمیر میں 90افراد کی شہادت ہو چکی ہے حملے کا الزام لگانے سے تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں ، ، آزادی کی تحریک زورپکڑ رہی ہے ، ہم بھارت کو جواب دینے کے لئے 100فیصد تیار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں موجودہ صورتحال بھارت کے لئے تشویشناک ہے ، بھارت کو جوآج کاٹنا پڑا ہے تو ہمیں کیوں الزام دے رہا ہے ، بھارت میں ریاستوں کی علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں ، پاکستان پر بھارت کے الزامات مسترد کرتے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر نے بھی تشویش کا اظہار کیا ،ممکن ہے بھارت نے خود ڈرامہ رچایا،اگر ایل او سی پر کچھ ہوا تو پاکستان اپنا دفاع کرے گا، بھارت کواس ایڈونچر کے نتائج بہت مہنگے پڑیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…