جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخواحکومت خوداحتسابی لانے کیلئے اندرونی آڈٹ کا بڑا قدم اٹھانے میں ملک کی پہلی صوبائی حکومت بن گئی

datetime 9  ستمبر‬‮  2016 |

پشاور(این این آئی)خیبر پختوپختوا حکومت سرکاری مشینری میں خوداحتسابی اور شفافیت لانے کیلئے اندرونی آڈٹ کا بڑا قدم اٹھانے میں بھی ملک کی پہلی صوبائی حکومت بن گئی ہے صوبے کے گیارہ بڑے محکموں میں اندرونی آڈٹ کا یہ نظام متعارف کرنے کیلئے تربیتی ورکشاپ پشاور کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے ورکشاپ کی اختتامی تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ تقریب میں سیکرٹری خزانہ علی رضا بھٹہ اور دوسرے محکموں کے اعلیٰ حکام و زیرتربیت افسران کے علاوہ امریکی امدادی ادارے یو ایس ایڈ اور اسکے ذیلی ادارے اے ایس پی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی مظفر سید ایڈوکیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ انکی اتحادی حکومت بہتر طرز حکمرانی اور عوامی خدمت کا نظام موثر بنانے کا پختہ عزم کئے ہوئے ہے جبکہ صوبائی حکومت اور یو ایس ایڈ کے تعاون سے انٹرنل آڈٹ کا نیا طریقہ کار اس جانب اہم پیشرفت ہے انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کرپشن اور اقرباء پروری کیلئے آنکھیں بند کرنے اور محض سابقہ حکومتوں کو موردالزام ٹہرانے کی بجائے بذات خود شفافیت اور خود احتسابی کی اعلیٰ مثالیں قائم کرے گی مظفر سید ایڈوکیٹ نے اعلان کیا کہ وہ اپنی وزارت محکمہ خزانہ کے حوالے سے خود کو اوراپنے محکمے کو مواخذے اور احتساب کیلئے پیش کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے ٹھوس اقدامات کی بدولت صوبائی محکموں کی کارکردگی بدرجہا بہتر ہوئی ہے اور عوامی خدمات کی فراہمی اطمینان بخش انداز میں آگے بڑھی ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی اداروں میں سو فیصد شفافیت یقینی بنانے کیلئے ابتدائی مرحلے میں گیارہ بڑے محکموں کے انٹرنل آڈٹ سیلز میں 29مستقل ٹیکنکل افراد کا تقرر کیا گیا ہے اسی طرح محکمہ خزانہ میں صوبائی انٹرنل آڈٹ سیل بھی قائم کیا گیا ہے جو ان تمام سیلز کی نگرانی و رہنمائی کرے گاانہوں نے امید ظاہر کی کہ وقت کے ساتھ اداروں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی اور صوبے میں قانون اور میرٹ کا بول بالا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…