بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

بڑی تعداد میں پی آئی اے کے ملازمین کو گر فتار کر لیا گیا بڑی وجہ سامنے آگئی

datetime 1  اگست‬‮  2016 |

لاہور( آن لائن ) علامہ اقبال ایئرپورٹ لاہور سے دبئی ہیروئن اسمگل کرنے کی کوشش پر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز(پی آئی اے) کے 13 ملازمین کو گرفتار کرلیا گیا۔پی آئی اے کے ترجمان دانیال گیلانی نے بتایا کہ لاہور سے دبئی ہیروئن اسمگل کرنے کی کوشش پر بعض ملازمین کو حراست میں لیا گیا ہے اور اگر ان پر الزام ثابت ہوگیا تو سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ہفتہ 30 جولائی کو پی آئی اے کی پرواز لاہور کے علامہ اقبال ایئرپورٹ سے دبئی کے لیے روانہ ہونے والی تھی کہ اچانک اینٹی نارکوٹکس فورس( اے این ایف) کو اطلاع ملی کہ اس پرواز کے ذریعے بڑی مقدار میں منشیات اسمگل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اے این ایف کے اہلکاروں نے طیارے کی تلاشی لی تو انہیں ٹوائلٹ سے 6 کلو گرام ہیروئن ملی جس کی مالیت 6 کروڑ روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اے این ایف کو شبہ ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں منشیات عملے کی ملی بھگت کے بغیر طیارے تک نہیں پہنچ سکتی۔ایک عہدے دار نے بتایا کہ پی آئی اے ویجیلنس، اے این ایف اور کسٹمز حکام پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے شک کی بنیاد پر پی آئی اے کے 13 ملازمین کو حراست میں لے لیا ہے اور تحقیقات میں انکشافات ہونے کے بعد مزید گرفتاریوں کا بھی امکان ہے۔انہوں نے بتایا کہ طیارے میں سوار ایک مشتبہ شخص کو بھی اتار لیا گیا تھا اور پھر تین گھنٹے کی تاخیر سے طیارے کو دبئی روانگی کی اجازت دے دی گئی تھی۔متعلقہ حکام کو اس واقعے پر شدید خدشات ہیں اور امکان ہے کہ اس طرح کیواقعات کی مستقبل میں روک تھام کیلئے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔اسلام آباد اور کراچی ایئرپورٹس پر بھی منشیات اسمگلنگ کرنے کی کوشش کے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔
حالیہ چند برسوں میں پی آئی اے کے ملازمین کی جانب سے مختلف اشیاء کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور انہیں منشیات، سگریٹس، موبائل فونز، غیر قانونی پاسپورٹس اور منی لانڈرنگ کرتے ہوئے پکڑا جاچکا ہے۔بعض کیسز میں تو پی آئی اے کے ملازمین کو پاکستانی ایئرپورٹس پر ہی پکڑ لیا گیا لیکن کئی بار انہیں یورپی ممالک میں گرفتار کرنے کے واقعات بھی سامنے آچکے ہیں۔پی آئی اے نے اس طرح کی حرکتوں میں ملوث ملازمین کے حوالے سے عدم برداشت کی پالیسی اختیار کررکھی ہے اور ان جرائم میں ملوث ملازمین کو ماضی میں برطرف بھی کیا جاتا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…