بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

کوئٹہ سے چلنے والی ائیر ایمبولنس کی دوبارہ کوئٹہ ائیر پورٹ پر لینڈنگ، وجہ انتہائی افسوسناک

datetime 30  جولائی  2016 |

کوئٹہ ( مانیٹرنگ ڈیسک )کوئٹہ سے مریض کو کراچی لے جانے والی ایئر ایمبولنس میں ایئر کنڈیشن اور آکسیجن نہ ہونے کی وجہ سے مریض اور اس کے تین تیمار داروں کی حالت غیرہوگئی جس پر ایئر ایمبولنس کو دوبارہ کوئٹہ ایئر پورٹ پر اتار لیا گیا۔ کوئٹہ کے رہائشی حاجی عبدالقاہر کے مطابق ان کے رشتہ دار محکمہ پی اینڈ ڈی کے آفیسر نجیب اللہ چھت سے گر کر شدید زخمی ہوگیا تھا اور اسے علاج کیلئے سی ایم ایچ منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے مریض کو کراچی کے آغا خان اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی ۔ جس پر ہم نے نجی کمپنی کی ایئر ایمبولنس سے رابطہ کیا تاکہ مریض کو کراچی منتقل کیا جاسکے۔ ایئر ایمبولنس کمپنی نے ہفتہ کی صبح پہلے آٹھ بجے کوئٹہ سے روانگی کا ٹائم دیا لیکن پھر گیارہ بجے ایئر ایمبولنس کوئٹہ پہنچی۔ہم نے مریض کو سی ایم ایچ سے ایئر پورٹ پہنچایا اور تین گھنٹے انتظار کیا۔ ایئر ایمبولنس میں مریض کیلئے سٹریچر اور نہ ہی آکسیجن کی سہولت موجود تھی جس پر ہم نے ستر ہزار روپے اضافی خرچ کرکے آکسیجن سلنڈر اور سٹریچر کا اپنے طور پر بندوبست کیا۔ تقریبا دو بجے جہاز نے اڑان بھری تو اس میں ایئر کنڈیشن نہ ہونے کی وجہ سے مریض اور اس کے تین تیمار داروں کی حالت غیر ہوگئی اور وہ قے کرنے لگے۔ مریض کی حالت تو انتہائی تشویشناک ہوگئی جس پر کچھ دیر بعد ہی ایئر ایمبولنس کو دوبارہ کوئٹہ ایئر پورٹ پر اتار لیا گیا ۔ ہم نے مجبورا مریض کو دوبارہ نجی ہسپتال پہنچایا جہاں اسپتال انتظامیہ مریض کو دوبارہ داخل بھی نہیں کررہی تھی۔ منت سماجت اور سفارش کے بعد مریض کو دوبارہ داخل کیا گیا۔ حاجی عبدالقاہر شاہ کا کہنا تھا کہ 7لاکھ 50ہزار روپے کرایہ وصول کرنے کے باوجود کمپنی نے کوئی سہولت فراہم نہیں کی اور اب کرایہ بھی واپس نہیں کیا جارہا۔ انہوں نے سول ایوی ایشن اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نجی کمپنی کی ایئر ایمبولنس کی ناقص سروس کا نوٹس لے اور ان کے خلاف کارروائی کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…