پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

جوہری ہتھیاروں کے بارے میں افواہیں، ڈاکٹر عبدالقدیر خان ،پاکستان نے اعلان کردیا

datetime 4  جون‬‮  2016 |

ناگپور(آئی این پی)بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے ملک کے جوہری ہتھیاروں کے غیر ریاستی عناصر کے ہاتھ لگنے کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیاروں کو محفوظ رکھنے کیلئے فول پروف اورعالمی معیار کے مطابق نظام موجود ہے،امید ہے پٹھانکوٹ حملے کے بعد تعطل کا شکار ہونے والے پاک بھارت مذاکرات جلد دوبارہ بحال ہوں گے ،بھارت کے ساتھ جب بھی مذاکرات ہونگے اس میں کشمیر کا مسئلہ ضرور شامل ہوگا،خطے میں امن واستحکام کو یقینی بنانے کیلئے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔جب تک بامعنی اور بلاتعطل مذاکرات نہیں ہوتے کوئی بھی چیز آگے نہیں بڑھ سکتی ، داؤدابراہیم کی پاکستان میں موجودگی کی اطلاعات غلط ہیں جب وہ پاکستان میں موجود ہی نہیں توپھر کسی طرح اسے بھارت کے حوالے کیا جاسکتا ہے ،ہم گزشتہ 35سالوں سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں، ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کے عام شہری ہیں انکی رائے کو زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ہفتہ کو بھارتی میڈیا کے مطابق ناگپور میں صحافیوں اور دانشوروں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہاکہ ملک کے جوہری ہتھیاروں کے غیر ریاستی عناصر کے ہاتھ لگنے کے خدشات درست نہیں کیونکہ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیاروں کو محفوظ رکھنے کیلئے فول پروف اورعالمی معیار کے مطابق نظام موجود ہے ۔انکا کہنا تھاکہ پاکستان کے عوام ہی نہیں بلکہ ملک کی سیاسی جماعتیں بھی بھارت کے ساتھ امن کی خواہش مند ہیں۔پاکستان میں تمام سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور میں بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کا وعدہ بھی شامل ہے ۔عبدالباسط نے امید ظاہر کی کہ پٹھانکوٹ حملے کے بعد تعطل کا شکار ہونے والے پاک بھارت مذاکرات جلد دوبارہ بحال ہوں گے ۔انکا کہنا تھاکہ بھارت کے ساتھ جب بھی مذاکرات ہونگے اس میں کشمیر کا مسئلہ ضرور شامل ہوگا۔پاکستانی ہائی کمشنر نے کہاکہ اعتماد سازی کے اقدامات دونوں ممالک کی جانب سے شروع کیے گئے ہیں اور دونوں کو باہمی تعلقات بحال کرنے میں مدد کرنی چاہیے۔انھوں نے کہاکہ پاکستان دہشتگردی ،منشیات اور انسانی سمگلنگ کی لعنت پر قابو پانے کیلئے لڑرہا ہے ہم گزشتہ 35سالوں سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں عبدالباسط نے ایک بار پھر داؤ ابراہیم کی پاکستان میں موجودگی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ داؤدابراہیم جب پاکستان میں موجود ہی نہیں توپھر کسی طرح اسے بھارت کے حوالے کیا جاسکتا ہے ۔ ہمارے پاس داؤدابراہیم کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ہم نہیں جانتے داؤد ابراہیم کہاں ہے وہ پاکستان میں نہیں ہے ۔برائے مہربانی ایسے شخص کو بھارت کے حوالے کرنے کی امید نہ کریں جو پاکستان میں موجود ہی نہیں ہے کسی بھی ایسے شخص کو کیسے حوالے کیا جاسکتا ہے جس کے بارے میں آپ کچھ بھی نہ جانتے ہوں ۔عبدالباسط نے کہاکہ خطے میں امن واستحکام کو یقینی بنانے کیلئے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔جب تک بامعنی اور بلاتعطل مذاکرات نہیں ہوتے کوئی بھی چیز آگے نہیں بڑھ سکتی ،عام طور پر توجہ دہشتگردی اور کشمیر پر ہے لیکن دیگر مسائل کو بھی بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔پاکستانی ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نئی دہلی کو پانچ منٹ میں نشانہ بنانے سے متعلق بیان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پرعبدالباسط نے کہاکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کے عام شہری ہیں انکی رائے کو زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے۔واضح رہے کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط ناگپور کے تین روزہ دورے پر ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…