پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

سکولوں میں گرمیوں کی تعطیلات کے دوران یہ نہیں ہو سکتا……..

datetime 2  جون‬‮  2016 |

اہور(این این آئی ) گرمیوں کی تعطیلات کے دوران سکولوں میں سمر کیمپ لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔گرمیوں کی چھٹیوں کے تین ماہ کی فیس اکٹھی لینے والے نجی تعلیمی اداروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔حالیہ گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران حکومتی فیصلے کی خلاف ورزی پر رجسٹریشن کی تنسیخ کا سامنا کرنے والے سکولوں کے مالکان کو اپنے ادارے چھٹیوں میں بند رکھنے کی یقین دہانی پر رجسٹریشن کی بحالی کی سہولت دے دی گئی ہے۔اس امر کا اظہار صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خاں نے یہاں سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے کمیٹی روم میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں ادیب جادوانی سمیت نجی تعلیمی اداروں کی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔صوبائی وزیر تعلیم نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران جن پرائیویٹ اکیڈمیوں میں سلسلہ تدریس جاری ہے ان کے حوالے سے محکمہ سکول ایجوکیشن کی ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو اگلے چار دنوں میں اکیڈیمیز کے معاملات پر اپنی سفارشات پیش کرے گی جن کی روشنی میں ان اکیڈمیوں کو بندکرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔نجی سکول مالکان کی شکایت پر رانا مشہود احمد خاں نے کہا کہ پرائیویٹ سکولوں کے بورڈ کے ساتھ الحاق کی مدت ایک سال سے زیادہ کرنے کے مطالبے پر غور کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ یا سرکاری سکولوں کو بند رکھنے میں حکومت کا کوئی مفاد وابستہ نہیں لیکن معصوم بچوں کو شدید گرمی سے بچانا اور ان کی صحت کی حفاظت کرنا نہ صرف والدین بلکہ حکومت کی بھی یکساں ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ موسم گرما کی تعطیلات کے دوران سمر کیمپ لگانے سے ان تعطیلات کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران ہر ڈویژن میں ایجوکیشن کے موضوع پرایک مرکزی کنونشن منعقد کیا جائے گا جس میں تعلیم کے حوالے سے مختلف سٹیک ہولڈرز کو درپیش مسائل غور کرکے ان کا حل نکالا جائے گا۔انہوں نے تعلیمی اداروں کے مالکان پر زور دیا کہ ایسے نجی تعلیمی ادارے جہاں سالانہ امتحان ہورہے ہیں وہاں پر سکیورٹی کے بارے میں محکمہ داخلہ کے ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے اور اس سلسلہ میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اگلے سال سیف سٹی پراجیکٹ مکمل ہو جائے گاجس سے تعلیمی اداروں کو محفوظ تر بنانے میں بڑی مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ دہشت گردی کی کمر توڑ دی گئی ہے تاہم اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل یا ختم کرنے میں کچھ عرصہ لگے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…