اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

عمران فاروق قتل کیس کا مقدمہ سیاسی بنیادوں پر درج کیا گیا ٗاسلام آباد ہائی کورٹ کے سوالات پر وکلاء کے پسینے چھٹ گئے

datetime 25  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران فاروق قتل کیس سے متعلق ریمارکس دیئے ہیں کہ بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ یہ مقدمہ سیاسی بنیادوں پر درج کیا گیا ہے۔ بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس نور الحق قریشی اور جسٹس اطہرمن اللہ پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے معظم علی خان کی درخواست ضمانت کی سماعت کی، معظم علی خان کے وکیل منصور آفریدی نے اپنے دلائل میں موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر عمران فاروق برطانیہ میں قتل ہوئے تاہم اس کا مقدمہ پاکستان میں درج کیا گیا، اس مقدمے میں اْن کے موکل کو قاتلوں کے سہولت کار کے طور پر گرفتار کیا گیا ہے ٗجب قتل کا واقعہ بیرون ملک ہوا ہے تو اْن کے موکل کو کیسے گرفتار کیا جاسکتا ہے؟حکومتی وکیل خواجہ امتیاز نے اپنے دلائل میں کہا کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم پاکستان میں ہے، جن سے شواہد کا تبادلہ ہورہا ہے، شواہد کے تبادلہ آئندہ 4 سے5 روز میں ہو جائے گا۔انہوں نے کہاکہ کسی بھی پاکستانی کے بیرون ملک کسی جرم میں ملوث ہونے پر پاکستان میں کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے اور قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ عمران فاروق کے قتل کے واقعے کے چار سال کے بعد پاکستان میں مقدمے کے اندراج سے بادی النظر میں لگتا ہے کہ مقدمہ سیاسی بنیادوں پر درج کیا گیا، بتایا جائے کہ مقدمہ پاکستان میں کیوں درج کیا گیا۔ کیا ایسے کوئی شواہد سامنے آئے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ ملزم معظم علی کا ڈاکٹرعمران فاروق کے قتل کے مقدمے میں کوئی کردار ہے۔ اس پر سرکاری وکیل نے کہاکہ اس معاملے میں ملزم کا اقبالی بیان بھی موجود ہے جو اْنھوں نے اپنی مرضی سے مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کروایا ہے۔ عدالت نے کہاکہ کیا اسکاٹ لینڈ یارڈ نے عینی شاہد لڑکی کا بیان ریکارڈ کیا ہے، کیا برطانیہ میں موجود دیگر گواہان کے بیانات قلم بند کیے گئے۔سرکاری وکیل نے عدالت سے استدعا کی فاضل بینچ کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب کی تیاری کیلئے وقت دیا جائے، جس پرعدالت عالیہ نے کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…