پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

سوزوکی ڈرائیورکا کیا کردارتھا؟بیٹی سے آخری وعدہ ،عنبرین کے والدکی دہائی،قاتلوں کو عبرتناک سزادینے کا مطالبہ

datetime 6  مئی‬‮  2016 |

ایبٹ آباد(آن لائن) پندرہ رکنی جرگہ کے حکم پرقتل کی جانیوالی عنبرین کے والد ریاست نے کہاہے کہ مقامی جرگے کے بارے میں مجھے معلوم نہیں تھا۔ جس طرح ظالموں نے میری بیٹی کو جلایاہے۔ اسی طرح ان لوگوں کو بھی اسی مقام پر جلا کر انصاف فراہم کیاجائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کیا۔مقتولہ عنبرین کے والد نے بتایاکہ میں ایک غریب آدمی ہوں۔ آٹھویں کلاس تک عنبرین نے مڈل سکول میں تعلیم حاصل کی تھی۔ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے اسے مزید تعلیم نہیں دلواسکتاتھا۔ میں نے اپنی بیٹی کی فرمائش پر اسے میٹرک کاپرائیویٹ امتحان دلوانے کا وعدہ کیاتھا۔ اور اس مرتبہ فیس نہ ہونے کی وجہ سے اس کا داخلہ نہیں بھیج سکاہوں۔صائمہ کے فرار کے بارے میں نہ مجھے کوئی علم ہے او رنہ ہی مقامی جرگے کے بارے میں مجھے کچھ معلوم تھا۔ میں چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعظم پاکستان سے اپیل کرتاہوں کہ جس طرح ظالم جرگوئیوں نے میری بیٹی کوجلا کرقتل کیاہے۔ اسی طرح ان جرگوئیوں کو بھی اسی مقام پر جلا کر انصاف کیاجائے۔ دریں اثناء سترہ سالہ عنبرین کے قریبی عزیز سردارعجب داد نے کہاہے کہ جرگہ ممبران نے سوزوکی ڈرائیورکوپیسے دے کرکہاتھاکہ عنبرین کو لاوارث قرار دلواکر کمیٹی کے قبرستان میں دفناآئے۔جس روز عنبرین کی جلی ہوئی نعش ملی۔ اس کی چوڑیوں سے اس کو شناخت میں نے کیاتھا۔ گاؤں مکول پائیں میں جائے وقوعہ پر صحافیوں سے بات چیت کے دوران سردار عجب داد نے بتایاکہ جب عنبرین کی نعش کو گاؤں سے ایبٹ آباد کیلئے روانہ کیاگیاتھا تو جرگہ ممبران نے سوزوکی ڈرائیور محمد زبیر ولد گل داد خان کوپیسے دے کرنعش کے ساتھ بھیجا تھا۔ اور اسے کہاتھاکہ نعش کو لاوارث قرار دلوا کر، اسے کمیٹی کے قبرستان میں دفناکر واپس آجائے۔ لیکن عنبرین کی چوڑیوں کی تصاویر میں نے بنائیں۔ جن کی مدد سے اسے پہچان لیاگیا۔ انہوں نے مزید بتایاکہ یہ جرگہ علاقائی روایات کے منافی ہے۔ ان لوگوں نے ظلم کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ حکومت ان لوگوں کو نشان عبرت بنائے۔ ادھر تھانہ ڈونگاگلی کے ایس ایچ او نصیراحمد نے کہاہے کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے سکول بیگ اورایک کاغذ کے ٹکڑے سے عنبرین کی شناخت کی گئی۔ انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران بتایاکہ جب ہمیں گاڑی میں نامعلوم لڑکی کی نعش ملی تو اس کے پاس سکول کا ایک بیگ بھی تھا۔ جبکہ ایک کاپی پر نعمان کا نام لکھا ہواتھا۔ جب ہم اس سکول میں گئے تو نعمان ہمیں مل گیا۔ جب نعمان سے پوچھ گچھ کی تو معلوم ہوا کہ گاڑی سے ملنے والی نعش اس کی بہن عنبرین کی ہے۔ ایس ایچ او نے مزید بتایاکہ ملزمان جب لڑکی کو رات کے وقت لیکر آئے تو اسے حادثاتی رنگ دینے کیلئے اس کے گھر سے سکول بیگ بھی لیکر آگئے۔ جوکہ لڑکی کی شناخت کاباعث بن گیا۔ یہ بااثرلوگ ہیں۔ ان سے مقامی لوگ ڈرتے ہیں۔ ادھر مقتولہ عنبرین کے ٹیچر خلیق الزمان نے کہاہے کہ عنبرین چند روز قبل داخلہ کے حوالے سے سکول میں آئی تھی۔ اس نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی۔ جبکہ عنبرین کی دوست صائمہ بھی آٹھویں جماعت پاس کرنے کے بعد گھربیٹھ گئی تھی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کیا۔ خلیق الزمان نے بتایاکہ عنبرین جب آخری مرتبہ سکول آئی تھی تو وہ اپ سیٹ اورپریشان دکھائی دیتی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…