بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

سینٹ میں پاکستان کی جانب سے سری لنکا کو جے ایف سیونٹین جہازوں کی فروخت کے سودے کی بازگشت

datetime 3  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی)چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے پاکستان کی جانب سے سری لنکا کو جے ایف سیونٹین جہازوں کی فروخت کے مجوزے سودے کی منسوخی سے متعلق توجہ دلاﺅ نوٹس کا جواب دینے کیلئے وزیر دفاع پیداوار کی غیر موجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت دی کہ سینیٹ سیکرٹری سیکرٹری دفاعی پیداوار کو نوٹس جاری کرے اور معاملہ استحقاق کمیٹی کے سپرد کیا جائے ۔ جمعرات سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کی زیر صدارت ہوا اجلاس میں سینیٹر سحر کامران نے بھارتی حکومت کے منفی پراپیگنڈے اور اثر کی وجہ سے پاکستان کی جانب سے سری لنکا کو جے ایف سیونٹین جہازوں کی فروخت کے مجوزے سودے کی منسوخی سے متعلق انتہائی عوامی اہمیت کے حامل معاملے کی جانب وزیر برائے دفاعی پیداوار کی توجہ مبذول کرائی اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے پوچھا کہ اس کا جواب کون دیگا ۔ وزیر دفاعی پیداوار ایوا ن میں نہیں ہیں وزیر دفاعی پیداوار کی غیر موجودگی میں کسی دوسرے وزیر کو جواب دینے کیلئے پابند کیا جانا چاہئے تھا ۔ انہوں نے برہمی کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ سینیٹ سیکرٹریٹ سیکرٹری دفاعی پیداوار کو نوٹس جاری کرے اور اس معاملے کو استحقاق کمیٹی میں پیش کیا جائے اور جواب دے کہ کسی دوسرے وزیر کی ڈیوٹی جواب دینے کیلئے کیوں نہیں لگائی گئی ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…