جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

خیبر پختونخوا کے سرکاری تعلیمی اداروں نے سیکیورٹی گارڈز بھرتی کرنے کے لیے طلبہ سے فیس وصول کرنا شروع کردی

datetime 30  جنوری‬‮  2016 |

پشاور(نیوز ڈیسک)صوبہ خیبر پختونخوا کے سرکاری تعلیمی اداروں نے سیکیورٹی گارڈز بھرتی کرنے کے لیے طلبہ سے فیس وصول کرنا شروع کردی۔واضح رہے کہ ضلع چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد درسگاہوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے پولیس اور تعلیمی اداروں میں کنفیوڑن پیدا ہوگئی ہے.حالیہ واقعے میں ڈیرہ اسمٰعیل خان کے گومل میڈیکل کالج نے نوٹس جاری کیا ہے کہ طالبات ہاسٹل کی حفاظت کی غرض سے سیکیورٹی گارڈ کی بھرتی کے لیے فیس جمع کرائیں. گومل میڈیکل کالج صوبے کے تعلیمی اداروں کو درپیش سیکیورٹی خطرات کے باعث کالج/ ہاسٹل انتظامیہ 30 جون 2016 تک گرلز ہاسٹل کے لیے سیکیورٹی گارڈ بھرتی کرنے جار ہی ہے، جس کے لیے ہاسٹل کی تمام طالبات کو 7 دن کے اندر 500 روپے (ماہانہ 100 روپے) جمع کروانے کا کہا گیا۔واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کے ہائر ایجوکیشن کے وزیرمشتاق غنی گذشتہ 10 سے بیرون ملک دورے پر ہیں، ان کی غیر موجودگی میں صوبائی حکومت کے ترجمان شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ حکومت نے سیکیورٹی کے لیے طلبہ سے فیس وصول کرنے کی ہدایات جاری نہیں کیں۔شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیز اور کالجز خودمختار ہیں لیکن سیکیورٹی گارڈز کا خرچہ حکومت برداشت کررہی ہے۔رواں ماہ 20 جنوری کو چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد سے ملک بھر کے تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے، اس حملے میں دہشت گردوں نے 18 طلبہ سمیت 21 افراد کو قتل کر دیا تھا جبکہ پولیس نے آپریشن کرکے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا۔یہ پاکستان میں کسی تعلیمی ادارے پر پہلا حملہ نہیں تھا، بلکہ گزشتہ کچھ سالوں میں تعلیمی اداروں پر دہشت گردوں کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔16 دسمبر 2014 کو پشاور میں فوج کے زیر انتظام چلنے والے اسکول آرمی پبلک اسکول اینڈ کالج پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں 132 بچوں سمیت 150 کے قریب افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔تعلیمی اداروں پر حملوں کے بعد حکومت کی جانب سے تمام سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ طلبہ کی سیکیورٹی کو یقینی بنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…