جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

توہین رسالت کے قوانین ،اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ کابیان سامنے آگیا

datetime 28  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد)نیوزڈیسک)اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ وہ توہین رسالت کے قوانین پر نظرثانی کرنے کو تیار ہیں۔ایک امریکی خبررساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے محمد خان شیرانی نے کہا کہ وہ اس حوالے سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں اس قانون کے تحت دی جانے سزا انصاف پر مبنی ہے یا نہیں۔ اپنے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کو باضابطہ طور پر توہین رسالت کے قانون کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوانا چاہیے، اس مسئلے پر متعدد علماء مختلف قسم کی رائے کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بھجوائے جانے کے بعد کونسل تجویز دے سکتی ہے کہ آیا اس قانون کو اسی شکل میں رکھا جائے یا مزید سخت کیا جائے یا پھر اس میں نرمی کی جائے۔ ماضی میں اسلامی نظریاتی کونسل کم عمری میں شادی پر پابندی کو غیر اسلامی قرار دے چکی ہے تاہم شیرانی نے انٹرویو میں اس حوالے سے اپنے موقف سے آگاہ نہیں کیا۔ پارلیمنٹ میں جمیعت علمائے اسلام (ف) کی نمائندگی کرنے والے مولانا شیرانی کا موقف ہے کہ شادی کے معاملے پر ریاست کو ایک حد تک ہی مداخلت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بلوغت کی عمر پر پہنچنے کے بعد ہر شخص کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی یونین کو مسترد کردے۔ یونیسیف کے مطابق پاکستان میں تین فیصد لڑکیوں کی شادی 15 سال سے بھی کم عمر میں کردی جاتی ہے جبکہ 21 فیصد 18 سال سے قبل بیاہ دی جاتی ہیں۔ شیرانی کے مطابق پاکستان کے متعدد قوانین، اسلامی قوانین سے مماثلت نہیں رکھتے اور وہ حکومت کو ان پر نظرثانی کرنے کی تجویز دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر کی جانب سے قتل کے مجرمان کو معافی کا اختیار دینا انہی قوانین میں سے ایک ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت مغربی ممالک کے مفادات کا دفاع کرتی ہے، حکومتی نظریے اور اسلام قوانین کو ایک نہ سمجھا جائے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…