جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

بھارتی پرچم لہرانے کا کوئی مذموم مقصد نہیں تھا

datetime 28  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ملزم بھارتی کرکٹر ویراٹ کوہلی سے مشابہت کی وجہ سے بھی اپنے دوستوں سے کہتا تھا کہ اسے کوہلی کے نام سے ہی پکارا جائے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطی شہر اوکاڑہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ عمر دراز نامی شہری کی جانب سے بھارتی پرچم لہرانے کے معاملے میں اب تک تفتیش کے دوران ملزم کے کوئی مذموم مقاصد سامنے نہیں آئے ہیں۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مقدمے کے تفتیشی افسر محمد عمران کا کہنا ہے کہ تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ ملزم نے بھارتی پرچم لہرانے کا اقدام بھارتی کرکٹر ویراٹ کوہلی کے مداح کی حیثیت سے ہی کیا۔بھارتی پرچم لہرانے پر ’ویراٹ کوہلی کا مداح‘ گرفتارعمر دراز کو منگل کو بھارت اور آسٹریلیا نے ٹی 20 میچ میں بھارت کی فتح کے بعد اپنے مکان پر بھارت کا جھنڈا لہرانے پر حراست میں لیا گیا تھا۔پولیس نے ان کے خلاف نقصِ امن عامہ کی دفعہ 16 ایم پی او کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 123 اے کے تحت بھی مقدمہ درج کیا ہے جس میں جرم ثابت ہونے پر زیادہ سے زیادہ دس برس قید کی سزا ہو سکتی ہے۔تفتیشی افسر کے مطابق ملزم کی طرف سے بھارتی پرچم لہرانے کی اطلاع گاو¿ں والوں نے دی تھی تاہم اس مقدمے میں ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔مقامی پولیس کے مطابق تاحال ملزم کی جانب سے اس مقدمے میں ضمانت کی درخواست نہیں دی گئی ہے۔خیال رہے کہ عمر دراز اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔ملزم نے اپنے کمرے میں اپنی اور ویرات کوہلی کی تصاویر بھی ساتھ ساتھ لگا رکھی تھیںسب انسپکٹر محمد عمران کا کہنا ہے کہ ملزم عمر دراز کرکٹ کا اچھا کھلاڑی ہے اور ویراٹ کوہلی سے مشابہت کی وجہ سے بھی وہ اپنے دوستوں سے کہتا تھا کہ اسے کوہلی کے نام سے ہی پکارا جائے۔ان کے مطابق ملزم زیادہ تر ویراٹ کوہلی کے نام کی ٹی شرٹ پہنے رکھتا تھا بلکہ ا±س نے اپنے کمرے میں اپنی اور ویراٹ کوہلی کی تصاویر بھی ساتھ ساتھ لگا رکھی تھیں۔ملزم عمر دراز کے بھائی عارف علی کا بھی کہنا ہے کہ ان کے بھائی اور پورا خاندان محب وطن ہیں اور ملک سے غداری کا سوچ بھی نہیں سکتے۔صحافی عبدالناصرخان سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ گاو¿ں کے لڑکوں نے کرکٹ کی مختلف ٹیمیں بنا رکھی ہیں اور عمر دراز ان میں سے بھارت نامی ٹیم کا رکن تھا تاہم وہ نہیں جانتے کہ اس نے کیوں گھر کے اوپر بھارتی پرچم لگایا۔عارف نے کہا کہ وہ غریب لوگ ہیں اتنی ہمت بھی نہیں کہ کوئی بڑا وکیل کر کے عمردراز کو رہا کروانے کی کوشش کر سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…