جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پشاور میں 5 بم ناکارہ بنا دیئے گئے

datetime 28  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پشاور کے علاقے پھندو جمیل چوک میں بجلی ٹاور کے قریب نصب 5 بم کو بم ڈسپوزل اسکواڈ (بی ڈی ایس) نے ناکارہ بنایا۔پھندو جمیل چوک میں بجلی ٹاور کے قریب نصب یہ بم نصب کیے گئے تھے۔پشاور کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز عباس مجید مروت کا کہنا تھا کہ دہشت گرد 132 کے وی کی ہائی ٹرانسمیشن لائن کے ٹاور کو تباہ کرنا چاہتے تھے جس سے پشاور کو بجلی کی فراہمی معطل ہو سکتی تھی البتہ پولیس نے دہشت گردوں کا منصوبہ ناکام بنا دی ہے۔بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکار زاہد نے بتایا کہ ان بموں میں مجموعی طور پر 20 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا،ان کا کہنا تھا کہ یہ بارودی مواد 4 پریشر ککرز اور ایک پلاسٹک کے ڈبے میں دھماکے کے لیے نصب کیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ہر بم میں 4 کلو گرام تک کا بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا۔بی ڈی ایس نے موقع پر پہنچ کر بموں کو ناکارہ بناتے ہوئے دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنایابعد ازاں پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپر یشن شروع کر دیا۔گزشتہ روز بھی پشاور میں سیکیورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے اسلحے کی بڑی کھیپ پکڑی تھی۔اس کھیپ میں غیر ملکی ساختہ ممنوع بور کی ایک ہزار رائفلز شامل تھیں۔واضح رہے کہ 2 روز قبل پشاور میں ہی بشیر آباد کے علاقے میں نامعلوم افراد نے باردوی مواد سے بھرا ایک پریشر ککر بچے کو تھما دیا اور ساتھ ہی اس بچے کو یہ بم مقامی اسکول کے اندر رکھنے کی ہدایت کی تاہم بچہ ککر گھر لے آیا تھاحکام کے مطابق اطلاع ملتے ہی پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر گھر کو خالی کیا جبکہ بی ڈی ایس نے بم کو ناکارہ بنا دیا اس ککر بم میں بھی پانچ کلو گرام باردوی مواد چھپایا گیا تھا۔4 روز قبل پشاور میں پھندو کے علاقے میں سڑک کنارے نصب بم سے دھماکا کیا گیا تھا جس میں مقامی مدرسے کے مہتمم سمیت 3 افراد زخمی ہوئے تھے۔اس دھماکے کی ذمہ داری کسی شدت پسند گروپ نے قبول نہیں کی تھی۔اس دھماکے سے 4 روز پہلے خیبر پختونخوا میں چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر افغانستان سے آنے والے 4 دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، جس میں 18 طلبہ سمیت 21 افراد ہلاک ہوئے تھے۔یاد رہے کہ جون 2014 میں کراچی میں جناح انٹرنیشنل ائیر پورٹ دہشت گردوں کے حملے کے بعد خیبر پختونخوا کے ساتھ واقع قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا تھا، یہ آپریشن اب بھی جاری ہے جبکہ اس میں شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندی پر قابو پانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے البتہ اب بھی دہشت گرد مختلف علاقوں میں عسکری کارروائیاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…