جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاﺅٹ کیا ہے؟ سپین کے سفیر اصل بات زبان پر لے آئے

datetime 28  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاﺅٹ کیا ہے؟ سپین کے سفیر کارلوس موریلز اصل بات زبان پر لے آئے ، کہتے ہیں بیرونی دنیا میں پاکستان کے بارے میں پایا جانے وال تاثر اس کی معیشت کی ترقی کی راہ میں اہم رکاوٹ ہے سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ دینے کیلئے پاکستان کو اپنا امیج بہتر کرنے پر ترجیحی توجہ دینا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاجر برادری بیرونی ممالک میں جا کر وہاں اپنی مصنوعات کی اصل صلاحیت کو اجاگر کر کے اپنے ملک کے بارے میں پایا جانے والا غلط تاثردور کرنے اور اس کا امیج بہتر کرنے میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے جس سے نہ صرف سپین بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کار پاکستان میں مزید دلچسپی لے سکتے ہیں پاکستان میں تعینات سپین کے سفیر کارلوس موریلز نے کہا ہے کہ سپین اور پاکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں باہمی تجارت کو فروغ دینے کے عمدہ مواقع موجود ہیں ،پاکستانی تاجر برادری سپین کے ساتھ تجارت کو مزید بہتر کرنے کیلئے کوششیں تیز کرے۔ وہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جو غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اس کی معیشت کی طرف راغب کر سکتی ہیں کیونکہ پاکستان ایک نوجوان آبادی والا ملک ہے جس کے پاس وافر مقدار میں قدرتی وسائل پائے جاتے ہیں اور جو صارفین کی ایک بڑی مارکیٹ ہے تاہم بیرونی دنیا میں پاکستان کے بارے میں پایا جانے وال تاثر اس کی معیشت کی ترقی کی راہ میں اہم رکاوٹ ہے سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ دینے کیلئے پاکستان کو اپنا امیج بہتر کرنے پر ترجیحی توجہ دینا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاجر برادری بیرونی ممالک میں جا کر وہاں اپنی مصنوعات کی اصل صلاحیت کو اجاگر کر کے اپنے ملک کے بارے میں پایا جانے والا غلط تاثردور کرنے اور اس کا امیج بہتر کرنے میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے جس سے نہ صرف سپین بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کار پاکستان میں مزید دلچسپی لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 46 ارب ڈالر مالیت کا چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ بہت مثبت پیش رفت ہے کیونکہ اس منصوبے نے بہت سے ممالک کے سرمایہ کاروں کی پاکستان میں دلچسپی بڑھا دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپین اور پاکستان کی باہمی تجارت بتدریج بہتر ہو رہی ہے اور خاص طور پر یورپی یونین کی طرف سے پاکستان کو جی ایس پی پلس کی سہولت ملنے کے بعد اس میں کافی بہتری آئی ہے کیونکہ 2014ءکے دوران دونوں ممالک کی باہمی تجارت میں 34 فیصد اور 2015ءمیں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے جو حوصلہ افزاءہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ موجودہ سال کے دوران دونوں ممالک کی باہمی تجارت 1ارب ڈالرکا ہدف حاصل کر لے گی۔اپنے استقبالیہ خطاب میں اسلام آباد چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان اور سپین کے درمیان 1951ءسے اچھے دوستانہ تعلقات قائم ہیں تاہم باہمی تجارت کو صلاحیت کے مطابق فروغ دینے کیلئے دونوں ممالک کی طرف سے مزید کوششوں کی ضروت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی وفود کا بکثرت تبادلہ بڑھا کر اور ایک دوسرے کے ملک میں نمائشوں کا انعقاد کر کے باہمی تجارت کو بہتر طور پر فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان براہ راست روابط بڑھانے اور پاکستان و سپین کے مابین تجارتی و اقتصادی تعلقات کو مزید بہتر کرنے کیلئے سپین کے سفارت خانے کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرتا رہے گا۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر شیخ پرویز احمد اور نائب صدر شیخ عبدالوحید نے بھی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید بہتر کرنے کیلئے مختلف تجاویز پیش کیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…