اسلام آباد(نیوزڈیسک) آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنے اہل خانہ اور رفقائے کار کے ساتھ مشورہ کے ساتھ اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد ملک بھر میں پھیلی قیاس آرائیوں کا خاتمہ کرنا اور آپریشن ضرب عضب کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔ مستند ذرائع کے مطابق جنرل راحیل شریف کبھی بھی مدت ملازمت میں توسیع لینے کے خواہشمند نہیں رہے جبکہ انکی اہلیہ خاص طورپر توسیع لینے کی مخالف تھیں۔ جب کراچی سمیت ملک بھر میں ”قدم بڑھا¶ راحیل شریف‘ ہم تمہارے ساتھ ہیں“ کے بینر آویزاں کئے گئے اور سوشل میڈیا پر بھی انہیں آرمی چیف برقرار رکھنے کی مہم چلائی گئی تو جنرل راحیل شریف نے اس پر ناصرف ناراضی کا اظہار کیا بلکہ ایسے تمام بینرز ہٹانے کی ہدایات جاری کیں۔روزنامہ نوائے وقت کے معروف صحافی سہیل عبدالناصرکی رپورٹ کے مطابق جنرل راحیل شریف پاکستان کی عسکری تاریخ کے پہلے فوجی سربراہ بن گئے جنہوں نے 10 ماہ پہلے ہی اعلان کر دیا کہ وہ مقررہ مدت پر ریٹائر ہو جائیں گے۔ گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران معمول کے مطابق مدت ملازمت پوری کر کے سبکدوش ہونے والے وہ واحد فوجی سربراہ ہوں گے۔ ان سے پہلے جنرل پرویز مشرف 10 سال سے زائد اور جنرل اشفاق پرویز کیانی 6 برس تک آرمی چیف کے منصب پر فائز رہے۔ جنرل راحیل شریف نے جہاں ایک طرف صحافت اور سیاست کے کوچے میں پھیلی قیاس آرائیوں کا خاتمہ کر دیا وہیں فوج کے اندر بھی اب واضح ہو گیا ہے کہ کمانڈ کی تبدیلی مقررہ وقت پر ہو جائے گی۔ اس ذریعے کے مطابق فوج کے اندر جہاں ایک ڈاکٹرائن یہ بنائی گئی کہ سول حکومتوں کا اب تختہ نہیں الٹا جائے گا وہاں اس ڈاکٹرائن پر بھی اتفاق ہے کہ آرمی چیف اسی افسر کو بننا چاہئے جو ملکی داخلی اور بیرونی سلامتی کے حوالے سے فوج کے جاری آپریشنوں کا حصہ رہا ہو اور ان آپریشنوں کی حکمت عملی اور ترجیحات سے بخوبی واقف بھی ہو۔ آرمی چیف کی تعیناتی اگرچہ وزیراعظم کا استحقاق ہے تاہم انہیں نئے آرمی چیف کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت اس ڈاکٹرائن کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا۔ جنرل راحیل شریف کی طرف سے رواں سال ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد ممکنہ نئے آرمی چیف کا تذکرہ بھی زبان زد عام ہے۔ سنیارٹی کے مطابق اقوام متحدہ کے چیف ملٹری ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل مقصود احمد پہلے نمبر پر ہیں۔ فوج کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات دوسرے جبکہ ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل سید واجد حسین تیسرے نمبر پر ہیں۔ ماضی کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو 4 نمبر پر موجود لیفٹیننٹ جنرل نجیب اللہ خان‘ 5 نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم‘ 6 نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الحسن شاہ اور 7 نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔ نئے آرمی چیف کے بارے میں 10 ماہ پہلے شروع ہونے والی یہ بحث اگرچہ قبل از وقت ہے تاہم فوجی اور سول حلقوں میں آئندہ آرمی چیف کے نام کے بارے میں تبادلہ خیالات چل رہا تھا۔ مقتدر حلقوں کی نجی مجالس میں چیف آف جنرل سٹاف زبیر محمود حیات کو اس عہدے کیلئے نمایاں افسر قرار دیا جاتا رہا ہے۔
جنرل راحیل نے فیصلہ اہل خانہ اور رفقائے کار کےساتھ مشاورت کے بعد کیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
گریٹ گیم(تیسرا حصہ)
-
سر میں گولی لگنے سے رکن قومی اسمبلی کی نوجوان بیٹی جاں بحق
-
بچی کو 16 کروڑ روپے کا زندگی بچانے والا انجیکشن لگادیا گیا
-
سیمنٹ کی ریٹیل قیمت میں بڑی کمی ہوگئی
-
کل تمام دفاتر بند رکھنے کا اعلان
-
یہ 6 ادویات ہرگز نہ خریدیں ! ہنگامی الرٹ جاری
-
ورلڈ بینک نے پاکستان کو جنوبی ایشیا ءسے نکال کر مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں شامل کر دیا
-
سکولوں میں داخلے کیلئے عمر کی نئی حد مقرر، والدین کی پریشانی میں اضافہ
-
فنکشن سے واپسی پر گاڑی روک کر 15 افراد کی خواجہ سرا سے اجتماعی جنسی زیادتی اور تشدد کیس
-
ڈیزل سے لدا پاکستانی جہاز خیرپور آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے بعد واپس ہوگیا
-
انجینئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ
-
یو اے ای نے پاکستانی و بھارتیوں سمیت متعدد کرکٹرز کو شہریت دیدی
-
شوہر کی دوسری شادی میں پہلی بیوی کی انٹری پر دولہا اور دلہن فرار
-
بابر اعظم نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ناقابل یقین ریکارڈ بنا ڈالا



















































