جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

خیبرپختونخواحکومت نے ایک اورنیاکام کرنے کافیصلہ کرلیا

datetime 25  جنوری‬‮  2016 |

پشاور(نیوزڈیسک)حکومت خیبر پختونخوا نے مالی سال 2015-16کے دوران اخراجات جاریہ میں کمی لانے کی غرض سے سرکاری دفاتر میں کفایت شعاری کے لئے مزید اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق کفایت شعاری کے سلسلے میں صوبائی فنڈز سے فائیو سٹار ہوٹلوں میں سیمینار اور ورکشاپس کے انعقاد پر مکمل پابندی ہو گی جبکہ تمام سرکاری دفاتر ، اداروں اور کالجوں ماسوائے ہسپتالوں میں الیکٹرک ہیٹروں اور گیزروں کی خریداور استعمال پر بھی پابندی ہو گی ۔ دفتروں /اداروں میں موجودہ الیکٹرک ہیٹروں کو ضابطہ کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد نمٹانے کے لئے متعلقہ محکمہ ، ملحقہ محکمہ یا ادارہ کے سربراہ کے پاس جمع کیا جائے ۔ اس کے علاوہ دیر سے ادائیگی کی وجہ بے جا اخراجات کے بوجھ سے بچنے کے لئے تمام پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران ، ڈی ڈی اوز یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی مقررہ وقت کے اندر یقینی بنائیں گے ۔ سرکاری محکموں ، دفتروں یا بنگلوں میں لگائے گئے ٹیلیفون سے مجاز حد سے زیادہ کوئی کال نہیں کی جائے گی اور سٹیشنری کے استعمال میں بچت کی جائے گی ۔ تمام محکموں ، دفاترمیں کاغذ کے دونوں طرف لکھائی کی جائے گی ۔ ۔ تمام غیر مجاز گاڑیوں کا استعمال روکا جائے گا اور ناقابل استعمال گاڑیوں کو فوراًمحکمہ انتظامیہ کے سپرد کیا جائے گا ۔ سڑکوں اور عمارات کی ایم اینڈ آر کی مدمیں فنڈز کا استعمال حسب ضرورت کیا جائے گا اور غیر ضروری اخراجات کی حوصلہ شکنی کی جائے گی ۔ مقامی جنرل ڈیوٹی کے لئے 1000سی سی سے بڑی کسی گاڑی کے استعمال پر پابندی ہو گی ۔ مزید برآں حکومت نے مالی سال 2015-16کے لئے کفایت شعاری کے ان اقدامات پر بھر پور طریقے سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے ۔ اس امر کا اعلان ایک سرکاری اعلامیے میں کیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…